خدا کے لیے شاہ سائیں مجھے چھوڑ دیں میری عزت کو داغدار مت کریں میں آپ کے پاؤں پکڑتی ہوں مجھے حویلی چھوڑ آئیں.. وہ شاہ سائیں کے پاؤں پکڑے اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی.
وہ اس کے قدموں میں پڑی التجا کر رہی تھی، جب اس نے احلاء کے سامنے رہائی کی کچھ شرائط رکھیں: "صرف میرے ساتھ نکاح کے لیے رضا مندی دے دو۔ تجھے باحفاظت گھر پہنچا دوں گا۔ بہت عزت اور مان سے دور لے جاؤں گا۔ ہم اچھی زندگی گزاریں گے۔"
"آپ کمینے، ذلیل اور بے غیرت ہو۔ آپ سے نکاح کرنے سے بہتر ہے خود کشی کر لی جائے۔"
"امید چھوڑ دو احلاء! ورنہ تمام عمر پچھتاؤ گی۔" مقتضیٰ شاہ اسے ہر صورت رضامند کرنا چاہتا تھا مگر سات راتیں گزر جانے کے بعد بھی وہ قطعاً نہ مانی۔ اب تم چاہتی ہوکہ تیرے ساتھ سختی سے پیش آؤں۔ مقتضیٰ شاہ کے ارادے خطرناک تھے۔
"آپ میری بوٹیاں بھی نوچ دو گے تب بھی آپ کے ساتھ نکاح کا بندھن نہیں جوڑوں گی۔" وہ زخمی شیرنی کی طرح دہاڑ کر بولی۔
"تجھ سے محبت کی ہے۔ تجھے دل میں بسایا ہے۔ گھر میں بسانے کی بھی خواہش تھی۔ سیدھے اور شفاف طریقے سے اپنانا چاہا تھا مگر تم خود ہی عزت اور احترام نہیں چاہتیں۔ مجھے اب دوسرا طریقہ اپنانا پڑے گا۔ ابھی کچھ دیر بعد مولوی صاحب آ رہے ہیں۔ ان کے سامنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ خاموشی سے نکاح کے لیے مان جاؤ۔ رخصتی پیر شاہ اور تمہارے بابا کی واپسی کے بعد دھوم دھام سے ہوگی۔" اس نے اپنا تمام پروگرام احلاء کے گوش گزار کیا۔
"یہ نکاح میری آخری سانس تک نہ ہوگا۔" احلاء چلائی۔
"آپ کے کسی بھی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔ آپ نے ذلت کی پاتال میں مجھے اتار دیا ہے۔ بھلے میرے گلے پر آری چلا دو۔ میں آپ کو کل بھی گدھ سمجھتی تھی، آج بھی چلا چلا کر کہتی ہوں کہ آپ گندے گدھ ہو۔ حرام کھانے والے، نفس کے پجاری۔ باہر نکلو، آپ کےایک اشارے پر دس قربان ہو کر آ جائیں گی، مگر میں احلاء درویش ہوں۔"
"دیکھ لوں گا تمہیں، کیسے نہیں مانتیں؟ تم رینگتی، ہانپتی اور میرے پیروں میں گڑگڑا کر ہاتھ جوڑو گی کہ تجھے تحفظ اور عزت بخش دوں۔ میں تمہیں کسی اور کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔" مقتضیٰ شاہ کے لہجے میں زخمی درندے کی سی دھاڑ تھی۔
ایک دن اور طلوع ہو کر اندھیروں میں ڈوب گیا تھا۔ آٹھ راتیں گزر چکی تھیں۔ احلاء جانتی تھی کہ یہ فارم ہاؤس شہر سے ساٹھ میل دور ہے۔ یہاں ٹیلی فون کی سہولت بھی نہیں تھی۔ ایک بوڑھی عورت اسے دن میں تین وقت خوراک پہنچاتی تھی۔ وہ عورت گونگی اور بہری تھی۔ نہ بول سکتی تھی نہ سن سکتی تھی۔ احلاء کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ ان اونچی دیواروں کو توڑ کر یہاں سے نکل بھاگے۔
"کیا میری واپسی کے بعد کوئی میری بات پر یقین کرے گا؟ مجھے چاچا نے نہیں، مقتضیٰ شاہ نے اغوا کیا تھا۔ نہیں، کبھی نہیں۔ کسی نے بھی میری بات پر یقین نہیں کرنا۔" وہ سر جھٹکتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
"حدی شاہ! کہاں ہو تم؟ خبر نہیں ہے تمہیں کہ مجھ پر کون سی قیامت بیت رہی ہے۔"
احلاء کا وجود جھٹکے کھا رہا تھا۔ باہر ایک دم طوفانی بارش برسنے لگی تھی۔ آندھی کے جھکڑ چل رہے تھے اور درختوں کی شاخیں شائیں شائیں دلوں کو دہلا رہی تھیں۔ کہیں الو اور گیدڑ کی رونی، خوف ناک آوازیں اس کی سماعتوں میں اتر کر خوف و ہراس میں اضافہ کر رہی تھیں۔
تب ہی دروازہ کھلا اور بند ہوا۔ وہی بوڑھی عورت آتی دکھائی دی۔ اس کے ہاتھ میں ایک بھاری شاپر تھا اور وہ اشاروں کے ساتھ اسے سمجھا رہی تھی کہ اٹھ کر یہ کپڑے پہن لو۔ مائی نے زیورات کے ڈبے اور ایک عمدہ سرخ سوٹ نکال کر پلنگ پر رکھا۔ احلاء یوں بھڑک کر پیچھے ہٹی تھی گویا اس شاپر میں سے زہریلے سانپ برآمد ہو رہے تھے۔
"ہوش کے ناخن لو۔ میں نہیں کہہ رہی ہوں، اٹھاؤ یہ سب!"
آتے ہی وہ ایک دم چلائی۔
مائی اشارے کے ساتھ عجیب و غریب آوازیں منہ سے نکالتی اسے سمجھا رہی تھی کہ غصہ مت کرو اور کپڑے آرام سے پہن لو۔
"میں ساگ لگا دوں گی ہر شے کو!" اس نے بھاری کام سے بوجھل، نرم ملائم کپڑوں کے چیتھڑے اڑا دیے۔ زیورات کے ڈبوں کو توڑ پھوڑ کر کمرے میں اچھال دیا۔ مائی خوف زدہ ہو کر کمرے سے بھاگ گئی۔
"یہ کیا بدتہذیبی ہے؟ بے عقل، احمق لڑکی! خوش قسمتی روز روز دستک نہیں دیتی۔" تھوڑی دیر بعد مقتضیٰ بھناتا ہوا آ گیا۔
"میں بہت بدبخت ہوں۔ مجھے بدنصیب ہی رہنے دو۔" وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
"مجھے گھر لے چلو، خدا کے لیے گھر لے چلو۔"
"کیا کرو گی اب وہاں جا کر؟ اتنی راتوں سے غائب ہو۔ وڈیری اماں تمہاری کسی بات پر یقین نہیں کریں گی۔ بہتر یہ ہے ابھی ہم نکاح کر لیتے ہیں۔ دیکھو! میں تمہاری آسانی کے لیے یہ سب کر رہا ہوں۔ کوئی بھی فرد تم سے سوال جواب نہیں کرے گا۔ کسی کی جرات نہیں مقتضیٰ کے مقابل آ کھڑا ہو۔ میں سارا معاملہ سنبھال لوں گا۔"
وہ ایک دم چلائی۔ آپ جہنم میں جاؤ! آپ کو بھی اک پل کو بھی سکون نہ ملے! وہ رو رہی تھی۔ پھر کسی زخمی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹ پڑی۔ شاید اتنے دنوں کی اعصابی جنگ نے اسے تھکا ڈالا تھا، جب ہی تو وہ سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے کی تمام صلاحیتیں کھو چکی تھی ورنہ اک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچتی کہ مقابل ایک مضبوط، توانا اور بھرپور مرد ہے جو لمحوں میں اسے بے بس کر سکتا ہے۔
اس نے مقتضیٰ کا چہرہ ناخنوں سے کھرچنے کی کوشش کی تھی اور وہ اسے بازوؤں میں بھینچے ایک پل میں ہی تمام معاملہ سمجھ کر قابو کر چکا تھا اور وہ کسی خوف زدہ سی چڑیا کی طرح اس کے فولادی بازوؤں میں پھڑپھڑاتی رہ گئی تھی۔ مقتضیٰ کا ہاتھ اس کی گداز کلائی پر پڑا تھا اور اس کی کلائیوں میں پڑی کالی چوڑیاں ٹوٹتی چلی گئیں۔ ڈھیروں ٹکڑے ارد گرد بکھر چکے تھے، احلاء درویش کی عزت کی طرح، اور وہ اس کے سحر انگیز نرم و نازک سراپے کی دلکشی میں کھوتا چلا گیا۔
Story From The Novel
Ahlay begged Shah Sain to let her go, pleading with him to spare her honor and take her back home. But Muqtazi Shah placed only one condition before her: she must agree to marry him, and he would take her home safely and give her a life filled with respect and comfort. Ahlay fiercely refused, calling him cruel and dishonorable and declaring that she would rather die than marry him. Despite his threats and repeated attempts to force her into accepting the marriage, eight long nights passed, yet Ahlay remained determined not to surrender.
Trapped inside a remote farmhouse nearly sixty miles from the city, Ahlay had no telephone and no way to escape. An elderly deaf and mute woman brought her food three times a day, while the towering walls around her made her feel completely imprisoned. During a stormy night, the old woman brought her a beautiful red dress and jewelry, signaling that she should get ready. Ahlay, realizing what was being planned, furiously destroyed the clothes and jewelry. Soon afterward, Muqtazi arrived and insisted that marrying him was the only way to protect her from questions and suspicion when she finally returned home. Ahlay broke down, begging him to take her home, but he refused.
Overwhelmed by days of fear, helplessness, and emotional torment, Ahlay finally lost control and attacked Muqtazi, scratching at his face in desperation. He immediately overpowered her, holding her tightly in his strong arms as she struggled like a frightened bird. Her black bangles shattered beneath his grip, their broken pieces scattering across the floor as a symbol of how completely her life and sense of security had been shattered. Muqtazi remained determined to make her submit to his plans, while Ahlay continued to resist him with everything she had.Download Novel By Clicking Download Button
