Sneak Peak From The Novel
بیس سالہ ارحا نائیٹ سوٹ پہنے بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی اپنا اسائنمنٹ کمپلیٹ کرتی غصے میں بڑبڑا رہی تھی۔ " میں نے اپنی پوری لائف میں اتنا ظالم پروفیسر نہیں دیکھا۔ پہلے ہی دن ایسا اسائنمنٹ دے دیا جیسے ہم اسٹوڈنٹس نہیں انکے پرسنل اسسٹنٹ ہوں۔" خراب قسمت کہ ارحا کا شوہر فائق آج ہی دو ماہ بعد اسپیشل مشن کمپلٹ کر کے گھر لوٹا تھا جو ارحا کو بالکل بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ " فائق پلیز مجھے ہر حال میں اسائنمنٹ کمپلیٹ کرنی ہے پلیز آج نہیں۔" " بالکل نہیں بیگم۔ پورے دو ماہ بعد واپس آیا ہوں۔ ایک لمحے کی مہلت نہیں ملے گی۔" " ارحا آپ نے اسائمنٹ سبمیٹ نہیں کرائی؟۔۔۔" " سر وہ مجھے میرے ہزبینڈ نے ساری رات سونے نہیں دیا تو۔۔۔۔" معصومانہ لہجے میں کہتی وہ پوری کلاس کو ہسنے پر مجبور کرگئی۔ دل کیا سامنے کھڑے اس کھڑروس پروفیسر کا منہ نوچ لے جو اسی کا شوہر تھا۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ بنگلے کے اس کمرے میں ہر طرف کتابیں اور نوٹس بکھرے ہوئے تھے۔ بیڈ کے ایک کونے پر یونیورسٹی کا بیگ پڑا تھا ایک طرف لیپ لیپ ٹاپ کھلا ہوا تھا اور اسکے ساتھ کئی کتابیں بے ترتیبی سے رکھی تھیں۔ کافی کا مگ بھی سائیڈ ٹیبل پر پڑا تھا مگر کافی کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ کمرے میں مدھم روشنی تھی اور اس خاموشی میں صرف کی بورڈ پر چلتی انگلیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ بیس سالہ ارحا بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔ لمبے گھنے بال مسلسل پڑھائی کے باعث بے ترتیب ہو کر کندھے پر بکھرے ہوئے تھے اور چند لٹیں بار بار اسکے چہرے پر آرہی تھیں۔۔۔۔
اس نے بلیک کلر کا نائٹ ڈریس پہن رکھا تھا۔ چہرے پر تھکن تھی مگر اس وقت اس تھکن سے زیادہ غصہ نمایاں تھا۔ " میں نے اپنی پوری لائف میں اتنا ظالم پروفیسر نہیں دیکھا!۔۔۔ " اس نے غصے سے کتاب بند کی اور اسے ایک طرف رکھتے ہوئے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو گھورا۔ " آج ہی یونیورسٹی میں آئے ہیں اور پہلے ہی دن ایسا اسائنمنٹ دے دیا جیسے ہم اسٹوڈنٹس نہیں انکے پرسنل اسسٹنٹ ہوں۔" ارحا نے بین اٹھایا اور اب کچھ لکھنے لگی۔ " آئی وانٹ یور اسائنمنٹ ٹومارو مارنگ۔۔۔۔" غصے سے اس پروفیسر کی نقل اتاری۔ " واہ! ایک رات میں اتنا بڑا اسائنمنٹ کمپلیٹ کریں گےایک رات میں ہم؟" وہ چند لمحوں تک غصے سے اسائمنٹ گھورتی رہی پھر اچانک آج کی کلاس کا منظر اسکے ذہن کی سکرین پر ابھر آیا۔۔۔۔
صبح ہی ڈیپارمنٹ میں یہ افواہ گردش کر چکی تھی کہ آج انکا نیا پروفیسر آ رہا ہے۔ کلاس روم میں نئے پروفیسر کی آمد سے پہلے ہی لڑکیوں میں خاصی چہل پہل تھی۔ "سنا ہے نئے پروفیسر بہت ینگ ہیں۔ اور ہینڈسم بھی!۔۔" "پلیز تم لوگ پہلے دن ہی شروع ہوگئی ہو۔" لڑکیوں کی دبی دبی ہنسی پوری کلاس روم میں پھیلی ہوئی تھی۔ ارحا اپنی سیٹ پر بیٹھی انکی باتیں سن کر صرف آنکھیں گھما رہی تھی۔ " تم لوگوں کو پڑھائی سے زیادہ پروفیسر کے ہینڈسم ہونے کی فکر ہے۔" وہ لڑکیوں کی ایسی بےہودگی سے شدید بیزار تھی۔۔۔ " تمہیں نہیں ہے؟۔۔۔ " ایک کلاس فیلو نے ہنستے ہوئے طنز کیا اس سے پہلے ارحا جواب دیتی کہ کلاس روم کا دروازہ کھلا۔۔۔۔
اور ایک نوجوان اندر داخل ہوا۔ لمبا قد پُر اعتماد انداز نفاست سے پہنا ہوا فورمل لباس سیاه بال اور چہرے پر ایسی سنجیدگی جس نے چند ہی لمحوں میں پوری کلاس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ " گڈ مارننگ کلاس۔۔۔" لڑکیوں کی سر گوشیاں یکدم تھم گئیں۔ کسی نے اپنے بال درست کیے،، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور کچھ لڑکیاں ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگیں۔ مگر وہ ارحا کیلئے وہ بالکل مختلف تھا۔۔۔
اسکی نظریں سامنے کھڑے شخص پر پڑیں تو جیسے اسکا پورا وجود ساکت رہ گیا۔ اسکے ہاتھ میں موجود پین تک لرز گیا۔ چہرے پر ایک دم شدید حیرت اور شاک کے تاثرات ابھرے۔ اس نے پلکیں جھپک کر اس شخص کو دوبارہ دیکھا جیسے یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو کہ واقعی وہی شخص اسکے سامنے کھڑا تھا یا یہ اسکا وہم تھا۔ پروفیسر نے بورڈ کی طرف رخ کیا اور اپنا نام لکھا۔ "
ابراہیم ملک۔۔۔۔" ارحا کی نظریں بورڈ پر لکھے نام پر جم گئیں۔ پھر آہستہ سے دوبارہ اسکے چہرے کی طرف اٹھیں۔ اسکے دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی۔۔۔
وہ شخص اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔ مگر ارحا ایک لمحے کیلئے بھی اس سے نگاہیں نہ ہٹا سگی۔ "ارحا؟" ساتھ بیٹھی دوست کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ "کیا ہوا؟" ارحا جیسے ہوش میں آئی سارا سحر ٹوٹا۔ "کچھ نہیں۔" مگر اسے کچھ تو ہوا تھا۔ کیونکہ باقی لڑکیاں نئے پروفیسر کو دیکھ کر متاثر ہو رہی تھیں جبکہ ارحا اسے دیکھ کر بے حد مضطرب ہوگئی تھی۔ اسکے اندر ایک عجیب سا اضطراب اور غصہ پھیل گیا تھا۔ جس کی وجہ وہ اس وقت کسی کو نہیں بتانا چاہتی اور شاید خود بھی نہیں۔ پھر کلاس شروع ہو گئی۔۔۔
ابراہیم ملک نے پورے سکون سے لیکچر دیا مگر ارحا کیلئے اسکی آواز اسکا ایک ایک لفظ بے چینی کا باعث بن رہا تھا۔ اور جب آخر میں اس نےاگلے دن جمع کروانے کیلئے اسائنمنٹ کا اعلان کیا تو ارحا کا دماغ گھوم گیا۔ ایک رات میں؟ وہ اتنی حیران تھی کہ کوئی سوال بھی نہ کر سکی اور اسکے سامنے ہی وہ کلاس سے باہر نکل گیا۔ ارحا نے سر جھٹکا اور ماضی کی اس یاد سے نکلی۔ " ہونہہ! ابراہیم ملک بھی نا۔" وہ غصے سے بڑبڑائی اور دوبارہ اسائنمنٹ مکمل کرنے کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔۔
بارہ بج چکے تھے اور اب اسکا نیند سے برا حال تھا۔" بس یہ آخری پیراگراف رہ گیا۔" اس نے جمائی لیتے ہوئے سرگوشی کی۔ مگر نیند اس پر غالب آگئی۔ پین اسکے ہاتھ سے پھسل کر نوٹس پر جا گرا۔ اسکا سر بیڈ کی پشت سے جا لگا۔ لیپ ٹاپ کی اسکرین اب بھی روشن تھی۔۔ اور ارحا وہیں بیٹھی بیٹھی سو چکی تھی۔ اتنے میں کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھلا۔ اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔ لمبا قد چوڑے شانے سیاہ ماتھے پر بکھرے بال اور وجیہہ
نقوش۔ ڈارک بلیو شرٹ اور بلیک جینز میں ملبوس۔ چہرے پر سفر کی تھکن واضح تھی مگر اسکی شخصیت میں ایک عجیب سا سکون اور ٹھہراؤ موجود تھا۔۔۔
وہ اٹھائیس سالہ فائق تھا۔ اسکی پہلی نظر کمرے میں پھیلی کتابوں کے دوران بیڈ پر سوئی ارحا پر جا ٹھہری۔ اور پھر اسکے لبوں کو بے اختیار ایک مسکراہٹ نے چھوا۔ "ارحا۔۔۔" وہ پورے دو ماہ بعد اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں موجود بیگ صوفے پر رکھا پھر وہ آہستہ آہستہ چلتا بیڈ کے قریب آیا۔ اسکے قریب آتے جھکا پہلے اسکے بال چہرے سے ہٹائے۔ پھر نرمی سے جھک کر اسکا ماتھا چوما۔ مگر شاید وہ گہری نیند میں تھی اسلئے اسے محسوس نہیں ہوا۔ فائق نے نرمی سے اسکے ہاتھ سے پین نکالا کتاب بند کی اور باقی کتابیں سائیڈ پر رکھ دیں۔۔۔
لیپ ٹاپ اٹھا کر بند کیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔ پھر نہایت احتیاط سے اسے سیدھا لٹایا اور بلینکٹ کھول کر اس پر دیا۔ چند لمحے وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ یہ اور اسکی پڑھائی میں دلچسپی یہ نہیں بدل سکتا۔۔یہ اور اسی پڑھائی میں دیسی یہ ہیں بدل سکتا۔۔ وہ سرگوشی کرتے دھیرے سے مسکرایا۔ پھر فریش ہونے کیلئے سیدھا واش روم میں گھس گیا۔ پندرہ منٹ بعد وہ شاور لیتا باہر آیا تو اس نے ہاف سیلوز وائٹ شرٹ اور ڈھیلا سا ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔ بال ابھی بھی نم تھے۔ وہ ارحا کے قریب آیا چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر جھک کر اسکی پیشانی پر لب رکھے۔۔۔
اسکے سر سے پانی کے قطرے ٹپک کر ارحا کے چہرے پر گرے جس سے اسکی نیند میں خلل پیدا ہوا۔ فائق بلینکٹ سائیڈ پر کرتا اسکے پاس ہی بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔ مگر تب تک ارحا کی آنکھ کھل چکی تھی۔ وہ حیرت سے آس پاس دیکھنے لگی۔ پہلے تو اسے سمجھ ہی نا آیا وہ کب سو گئی۔مگر اپنی کمر پر ہاتھ کی گرفت محسوس کی تو اس نے چونک کر بائیں جانب دیکھا۔ سامنے فائق کو دیکھتے ہی اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔۔ "آپ؟" فائق کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آن ٹھری۔۔۔۔۔۔
Story From The Novel
Arha, a 20-year-old university student, is furious over the impossible assignment given by her new professor, Ibrahim Malik, who demands it be submitted the very next morning. What makes the situation even more frustrating is that Arha’s husband, Faiq, has just returned home after completing a two-month special mission. After being away from her for so long, Faiq refuses to give her any time to finish her assignment, leaving Arha torn between her studies and her husband.
The real shock comes when Arha discovers that her new professor is none other than Ibrahim Malik, someone from her past whose presence immediately fills her with confusion, anger, and uneasiness. While the other girls in the class are fascinated by their handsome young professor, Arha can barely look at him without feeling disturbed. Ibrahim calmly teaches the class and assigns them a huge task, completely unaware of the turmoil he has caused inside Arha. Later that night, Arha struggles to complete the assignment until exhaustion finally overcomes her and she falls asleep beside her laptop.
After midnight, Faiq quietly enters the room and finds Arha asleep among her books and notes. After two long months away, he is happy to see his wife and gently moves her books and laptop aside before covering her with a blanket. After freshening up, he returns to her side, but drops of water falling from his hair wake Arha. When she opens her eyes and realizes that Faiq is lying beside her with his arm around her, she is stunned to see him back home. Looking at her with a deep smile, Faiq simply enjoys the surprise on his wife’s face—while Arha’s complicated encounter with Ibrahim Malik hints that something from her past may soon disrupt their peaceful married life.Download Novel By Clicking Download Button
DOWNLOAD