Kehkeshan Ke Rehguzer By Rubab Naqvi - Novelians Castle

Novel NameKehkeshan Ke Rehguzer
WriterRubab Naqvi
CategoryEmergency Nikah Based

Most Attractive Sneak Peak Of Kehkeshan Ke Rehguzer By Rubab Naqvi

"Khula"... !!! Gently stroking her back with one hand, he placed the other on her beautiful, clasped hands, and encouraged her, pleading with her.
Tip, tap, tap... Several tears fell on the back of his old hand at once, while he felt them falling on his heart. "That's all, my child, everything is fine." There was such sweetness in the tone of Javeria Begum, who was resting her head on his chest, that, regaining some composure, she slowly nodded her head in affirmation. Maulvi Sahib had repeated his question again.
"Accepted." Her sobs were drowned out by the noise of Mubarak Salamat. The grief that someone could reject her like this was making her feel extremely inferior.
The four people in the car were lost in their own thoughts. While driving, Muaz would occasionally cast compassionate glances at the bride through the front mirror. Javeria Begum was constantly holding her close to him and slowly patting her shoulders. Subhan Sahib was completely avoiding looking at Khawla due to embarrassment.
While Khawla's heart and mind were completely still.
Suddenly, at the ringing sound of the cell phone, everyone turned their attention to Javeria Begum, who had received the call, feeling embarrassed for no reason.
"Stop the car." Dawood's voice on the other side was so loud that Khawla, who was sitting next to Javeria Begum, was shaken.
"What? Why?"
"Your goal has been achieved, right? Just don't ask me questions now. And hand over my "bride" to me." He was grumbling badly as he rode his bike ahead of their car.
"Oh, but..." After thinking for a while, Javeria Begum became quiet and asked Muaz to stop the car.
A surprised and worried Muaz stopped the car and watched Dawood approaching the car while doing some exercise.
"What's the matter?" Subhan Sahib had asked with a bad face.
In response, Dawood had made an even worse face and ignored him and scolded him.
"Get down."
"Hey, what is he doing?"
"I am taking my bride home with me on my bike," he said, chewing each word, leaving the three of them stunned. He had moved towards his bike, which was standing at some distance, holding Khawla's hand.
While Khawla, who was being harassed, had started to resist.
Dawood had stopped and gently let go of the frightened girl's hand.
Javeria Begum, who was running, gasping and trembling, had then taken her in his arms.
"I won't eat him"
"You don't even trust me"
"Why did you get me married when I was supposed to keep you by my side?"
He had said anything in his emotions while Khawla, who was standing there in a black shawl, had her heart beating in a completely different rhythm...
"Oh" Muaz and Javeria Begum's meaningful gazes had met each other.
"I'm going... Keep your daughter-in-law close to your heart"...
He was about to start the bike when Javeria Begum suddenly dragged Khawla and made her sit behind him...
It was all so sudden that both of them had gone to their respective places...
Be very careful and sit carefully Khawla!! This boy's mind is completely broken... "The more I ask him to sit in the car, the more stubborn he will become."
She was addressing Khawla, wrapping her lehenga and dupatta, while her eyes were on him, who was sitting staring at the deserted, dark road...

Urdu Sneak Peek

"خولہ" ۔۔۔۔ !!! ایک ہاتھ سے نرمی سے اس کی پشت سہلاتے دوسرا ہاتھ انہوں نے اس کے سجے سنورے ایک دوسرے میں جکڑے ہاتھوں پر رکھ کر اس کی ہمت بھی بندھائی تھى اس سے التجا بھی کی تھی ۔۔۔۔
ٹپ ٹپ ٹپ ۔۔۔۔ کئی آنسو ایک ساتھ ان کے بوڑھے ہاتھ کی پشت پر گرے تھے جبکہ انہیں اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے ۔۔۔۔ "بس میری بچی'سب ٹھیک ہو گیا ہے" ۔۔۔۔ اس کا سر اپنے سینے سے لگاتی جویریہ بیگم کے لہجے میں کچھ ایسی حلاوت تھی کہ قدرے سنبھلتے ہوئے اس نے اپنے سر کو آہستگی سے اثبات میں جنبش دی تھی ۔۔۔ مولوی صاحب نے پھر سے اپنا سوال دوہرایا تھا ۔۔۔۔
"قبول ہے"
مبارک سلامت کے شور میں اس کی سسکیوں کی آوازیں دب چکی تھیں ۔۔۔۔ کوئی اسے اس طرح بھی رجیکٹ کر سکتا ہے یہ غم اسے شدید قسم کے احساسِ کمتری کا شکار کر رہا تھا ۔۔۔۔
گاڑی میں موجود چاروں نفوس اپنی اپنی سوچوں میں غرق تھے ۔۔ ڈرائیو کرتا معاز وقتاً فوقتاً ترحم بھری نظریں فرنٹ مرر سے دلہن پر ڈال لیتا ۔۔۔۔۔۔ جویریہ بیگم مستقل اسے اپنے ساتھ لگائے آہستہ آہستہ اس کے شانوں کو تھپک رہی تھیں ۔۔۔۔۔ سبحان صاحب شرمندگی کے باعث خولہ کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ خولہ کے دل و دماغ بلکل جامد تھے ۔۔۔۔۔
دفعتاً سیل فون کی چنگھاڑتی آواز پر سب ہی بدمزہ سے ہو کرجویریہ بیگم کی طرف متوجہ ہوے تھے جو بلاوجہ ہی شرمندہ ہوتی کال ریسیو کر چکی تھیں ۔۔۔۔
"گآڑی روکیے" دوسری طرف موجود داود کی آواز اتنی گرجدار ضرور تھی کہ جویریہ بیگم سے لگی بیٹھی خولہ کا دل بری طرح دہل گیا تھا ۔۔۔۔۔ "کیا؟ کیوں" ؟
"آپکا مقصد پورا ہو گیا نہ ؟ بس اب مجھ سے سوال جواب مت کریں ۔۔۔۔۔ اور میری "دلہن" میرے حوالے کریں" ان کی گاڑی سے آگے اپنی بائک دوڑاتا وہ بری طرح بھنا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
"ارے مگر۔۔۔۔" کچھ سوچ کر جویریہ بیگم چپ سی ہو گئیں اور معاز کو گاڑی روکنے کو کہا ۔۔۔۔
حیران پریشان سا معاز گاڑی روک کر تن فن کرتے داود کو گاڑی کے قریب آتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
"کِیا بات ہے" ؟ سبحان صاحب نے برا سا منہ بنا کے پوچھا تھا ۔۔۔۔ جواباً داود نے ان سے بھی برا منہ بنا کر انہیں نظر انداز کر کے تپا دیا تھا ۔۔۔۔ "اترو چلو"
"ارے یہ کیا کر رہا ہے" ؟
"اپنی دلہن کو اپنے ساتھ اپنی بائک پہ اپنے گھر لے جا رہا ہوں" ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتا وہ ان تینوں کو ہکا بکا چھوڑ کر خولہ کا ہا تھ تھامے کچھ فاصلے پر کھڑی اپنی بائک کی طرف بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔ جبکہ ہراساں ہوتی خولہ مزاحمت
شروع کر چکی تھی ۔۔۔۔
ٹھٹھک کر رکتا داود اس سہمی ہوئی سی لڑکی کا ہاتھ نرمی سے چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہانپتی کانپتی سی دوڑی آتی جویریہ بیگم نے پھر اسے بازوں کے حلقے میں لے لیا تھا ۔۔۔۔۔
"کھا نہیں جاؤ گا میں اسے"
"تمہارا کچھ بھروسہ بھی نہیں"
"شادی میری کیوں کروائی ہے جب ساتھ لگا کر آپ کو رکھنا تھا ؟"
وہ تو جزبات میں آ کر کچھ بھی کہ گیا تھا جبکہ سیاہ شال میں گم صم کھڑی خولہ کا دل بڑے بے ساختہ انداز میں ایک الگ ہی ردھم پر دھڑک اٹھا ۔۔۔
"اوہ" معاز اور جویریہ بیگم کی معنٰی خیز نظریں ایک دوسرے سے ٹکرائی تھیں۔
"میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔ رکھیے آپ اپنی بہو رانی کو اپنے کلیجے سے لگا کر" ۔۔۔۔۔
بائک سنبھالتا وہ اسٹارٹ کرنے لگا تھا جب جویریہ بیگم نے جھٹ پٹ خولہ کو گھسیٹ کر اس کے پیچھے بٹھا دیا تھا ۔۔۔۔
یہ سب اتنا اچانک تھا کہ وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ تھم سے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
بہت سنبھل کر احتاط سے بیٹھنا خولہ !! اس لڑکے کا دماغ بلکل خراب ہے ۔۔۔۔ جتنا میں اسے گاڑی میں بیٹھنے کو کہوں گی یہ اتنا ضد میں آئے گا"
اس کے لہنگے اور دوپٹے کو سمیٹتی وہ خولہ سے مخاطب تھیں جبکہ نظریں اسی پر تھیں جو سنسان تاریک راستے پر نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Enter The Name of Requested Novel...

Previous Post Next Post