Barbad Ishq By HS - Complete PDF Novelians Castle

Novel NameBarbad Ishq
WriterHS
CategoryOffice Based Novel

Most Attractive Sneak Peak Of Barbad Ishq By HS

"Please... Sir, help me, I am in dire need of four lakhs. I will return every rupee of yours, for God's sake, don't stop me." Isha's voice was drowned in sobs, her eyes were turning red and tear marks were visible on her cheeks.
Arhaan tapped the expensive pan he was holding on the table, this sound created a strange terror in the silent room. He looked at Isha's broken being with cold eyes.
"Will you return the loan?" Arhaan's voice was laced with sarcasm. He laughed like a dagger to Isha's heart. "How much is your salary, Isha? Only ten thousand rupees and you have come to ask me for four lakhs? You must be good at math. Even if you work as a salesgirl in my mall for the rest of your life, you will still not be able to return this money." Isha pursed her trembling lips. "I will do two shifts, I will work somewhere else too, just save my mother's life. The doctors are saying that if the surgery is delayed, she..." She couldn't finish the sentence and burst into tears. And Arhaan got up from the chair and slowly walked closer to her. His tall figure loomed over Isha like a shadow. He bent down and put his face close to Isha's face. His breath could be felt on Isha's forehead. "Do you remember Isha... when I held your hand in this same office a few days ago, your jealousy was burning." Arhaan ran his finger over his cheek as if he was still feeling the heat of that slap. "The echo of that slap is still in my ears. What did you think? You will humiliate Arhaan Jahangir in public and he will remain silent?"
Isha ​​looked at him with trembling eyes. "Forgive me... that... that was a misunderstanding, I was scared."
"You should be afraid now," Arhan's voice was now harsher than before. "You will pay dearly for this slap. You have challenged my ego and Arhan Jahangir pays his own price." He turned around and picked up a blue file lying on the table and threw it in front of Isha. The file fell open on the floor, containing some legal papers. "What is this?" Isha asked, hiccupping. "This is the price of your mother's life," Arhan said in a sharp tone. "Marry me. For just a few days. In return for this marriage, I will give you not four lakhs but eight lakhs. Four lakhs for your mother's surgery and four lakhs for your future." Isha felt as if the ground had given way from under her feet. She looked at Arhan with a mixed expression of surprise and anguish. "What are you saying?" "I said what I said clearly." Arhan sat back in his chair and lit a cigar. "You will stay with me as my wife for a few days. When my desire is fulfilled or when my ego is satisfied, I will set you free. This is a deal, Isha, and you have no room for refusal." A shiver ran through Isha's body. "No... this can't be. I can't trade my honor."
"Honor?" Arhaan let out a cloud of smoke. "Honor belongs to the living, not to the dead, Isha. Your mother is taking her last breaths in the ICU. You have four hours. Either sign these papers and take the check or prepare to carry your honor to your chest and carry your mother's body." A deathly silence fell in the room. Isha's mind was going blank. On one side was her pure life and on the other, her mother's life. At that moment, the phone in Isha's handbag rang. She took it out with shaking hands. It was a call from the hospital. "Hello... yes, doctor?" Isha's voice was barely coming out.
"Miss Isha, your mother's condition has become very critical. Internal bleeding has started. If the surgery doesn't start in the next hour, we won't be able to save her. Have you arranged the money?" The doctor's voice was urgent and helpless. Isha's hand fell down with the phone. Darkness began to fall before her eyes. She remembered her mother's smiling face, the mother who had raised her alone, who had sacrificed her own desires to teach Isha. Arhaan looked at the clock. "Time is running out, Isha... decide quickly..." Isha looked at the file lying on the floor. The tears falling from her eyes were now blurring the ink on the paper. She held her dupatta tightly, her fingers were turning blue...

Urdu Sneak Peek

"پلیز... سر میری مدد کر دیں مجھے چار لاکھ کی اشد ضرورت ہے۔ میں آپ کا ایک ایک روپیہ واپس کر دوں گی خدا کے لیے منع مت کریں۔" ایشا کی آواز سسکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی اس کی آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں اور گالوں پر آنسوؤں کے نشانات نمایاں تھے۔
ارحان نے ہاتھ میں پکڑا ہوا مہنگا پین میز پر ٹک ٹک کیا اس آواز نے خاموش کمرے میں ایک عجیب سی دہشت پیدا کر دی۔ اس نے سرد نظروں سے ایشا کے ٹوٹے ہوئے وجود کو دیکھا۔
"ادھار واپس کرو گی؟" ارحان کی آواز میں طنز کا زہر گھلا ہوا تھا۔ اس نے ایک قہقہہ لگایا جو ایشا کے دل پر کسی نشتر کی طرح لگا۔ "تمہاری تنخواہ کتنی ہے ایشا؟ صرف دس ہزار روپے اور تم مجھ سے چار لاکھ مانگنے آئی ہو؟ ریاضی تو آتی ہوگی تمیں۔ اگر تم اپنی پوری زندگی بھی میرے مال میں سیلز گرل کی نوکری کرتی رہو تب بھی یہ رقم واپس کرنا تمہارے بس کی بات نہیں۔" ایشا نے اپنے کپکپاتے ہونٹوں کو بھینچا۔ "میں دو دو شفٹیں کروں گی میں کہیں اور بھی کام کر لوں گی بس میری ماں کی زندگی بچا لیں۔ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ سرجری میں دیر ہوئی تو وہ..." وہ جملہ پورا نہ کر سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اور ارحان کرسی سے اٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کا قد آور وجود ایشا کے اوپر ایک سائے کی طرح چھا گیا۔ اس نے جھک کر ایشا کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا اس کی سانسیں ایشا کے ماتھے پر محسوس ہو رہی تھیں۔ "تمہیں یاد ہے ایشا۔۔۔ اسی آفس میں کچھ دن پہلے جب میں نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا تو تمہاری غیرت نے جوش مارا تھا۔" ارحان نے اپنے گال پر انگلی پھیری جیسے اسے ابھی بھی اس تھپڑ کی تپش محسوس ہو رہی ہو۔ "اس تھپڑ کی گونج میرے کانوں میں ابھی تک باقی ہے۔ تم نے کیا سوچا تھا؟ تم ارہا ن جہانگیر کو سرِ عام ذلیل کرو گی اور وہ خاموش رہے گا؟"
ایشا نے لرزتی نظروں سے اسے دیکھا۔ "مجھے معاف کر دیں... وہ... وہ غلط فہمی تھی میں ڈر گئی تھی۔"
"ڈر تو اب لگنا چاہیے تمہیں" ارحان کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ سخت تھی۔ "اس تھپڑ کی قیمت بہت مہنگی پڑے گی تمہیں۔ تم نے میری انا کو للکارا ہے اور ارحان جہانگیر اپنی قیمت خود وصول کرتا ہے۔" وہ پیچھے مڑا اور میز پر پڑی ایک نیلی فائل اٹھا کر ایشا کے سامنے پھینک دی۔ فائل فرش پر گر کر کھل گئی جس میں چند قانونی کاغذات لگے ہوئے تھے۔"یہ کیا ہے؟" ایشا نے ہچکی لیتے ہوئے پوچھا۔ "یہ تمہاری ماں کی زندگی کی قیمت ہے" ارحان نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ "مجھ سے نکاح کر لو۔ صرف چند دن کے لیے۔ اس نکاح کے بدلے میں تمہیں چار لاکھ نہیں بلکہ آٹھ لاکھ روپے دوں گا۔ چار لاکھ تمہاری ماں کی سرجری کے لیے اور چار لاکھ تمہارے مستقبل کے لیے۔" ایشا کو لگا جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔ اس نے حیرت اور کرب کے ملے جلے تاثرات سے ارحان کو دیکھا۔ " یہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟"
"میں نے جو کہا صاف کہا۔" ارحان نے کرسی پر دوبارہ بیٹھتے ہوئے سگار سلگایا۔ "تم چند دن میری بیوی بن کر میرے ساتھ رہو گی۔ جب میرا شوق پورا ہو جائے گا یا جب میری انا کی تسکین ہو جائے گی میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ یہ ایک سودا ہے ایشا اور تمہارے پاس انکار کی گنجائش نہیں ہے۔" ایشا کے بدن میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی۔ "نہیں... یہ نہیں ہو سکتا۔ میں اپنی عزت کا سودا نہیں کر سکتی۔"
"عزت؟" ارحان نے دھوئیں کا بادل فضا میں چھوڑا۔ "عزت زندہ لوگوں کی ہوتی ہے ایشا لاشوں کی نہیں۔ تمہاری ماں آئی سی یو میں پڑی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ چار گھنٹے ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔۔ یا تو یہ کاغذات سائن کرو اور چیک لے جاؤ یا پھر اپنی غیرت کو سینے سے لگا کر اپنی ماں کی میت اٹھانے کی تیاری کرو۔" کمرے میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ ایشا کا ذہن ماؤف ہو رہا تھا۔ ایک طرف اس کی پاکیزہ زندگی تھی اور دوسری طرف اس کی ماں کی زندگی۔۔۔۔۔ اسی لمحے ایشا کے ہینڈ بیگ میں موجود فون بج اٹھا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے فون نکالا۔ ہسپتال سے کال تھی۔۔"ہیلو... جی ڈاکٹر صاحب؟" ایشا کی آواز بمشکل نکل رہی تھی۔
"مس ایشا آپ کی والدہ کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔ انٹرنل بلیڈنگ شروع ہو چکی ہے۔ اگر اگلے ایک گھنٹے میں سرجری شروع نہ ہوئی تو ہم انہیں نہیں بچا پائیں گے۔ کیا آپ نے رقم کا انتظام کر لیا؟" ڈاکٹر کی آواز میں جلدی اور بے بسی تھی۔ ایشا کا ہاتھ فون سمیت نیچے گر گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اسے اپنی ماں کا ہنستا ہوا چہرہ یاد آیا وہ ماں جس نے اسے اکیلے پالا تھا جس نے اپنی خواہشات قربان کر کے ایشا کو پڑھایا تھا۔ ارحان نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ "وقت گزر رہا ہے ایشا… جلدی فیصلہ کرو۔۔۔" ایشا نے فرش پر پڑی فائل کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو اب کاغذ پر موجود سیاہی کو دھندلا رہے تھے۔ اس نے اپنا دوپٹہ مضبوطی سے تھاما اس کی انگلیاں نیلی پڑ رہی تھیں۔۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Enter The Name of Requested Novel...

Previous Post Next Post