Aziyat E Mohabbat By Habiba - Novelians Castle

Novel NameAziyat E Mohhabbat
WriterHabiba
CategoryRevenge Based

Most Attractive Sneak Peak Of Aziyat E Mohhabbat By Habiba

Azlan Pup... Please leave me alone... I'll tie my hair... Just shut up, I'll compliment your beauty today and I'll do it like this... "
A strange tension was being felt on the eighteenth floor of the high-rise building of Effendi Empires today. The staff in the large hall outside were completely silent in their places, no one dared to even turn over a file. Everyone's eyes were fixed on the closed door of Azlan Effendi's cabin, from where a thunderous sound had been heard a short while ago. The atmosphere inside the cabin was extremely tense at that time. Azlan Effendi, whose name made the business world tremble, was touching the last limits of anger at that time. He tightly grabbed both of Reem's shoulders and kept her against the wall. "You are very keen to come to my office in fashion, aren't you?" The thunder of Azlan's voice made Reem tremble. The expressions on his face were so severe that Reem felt like he was staring at her with his eyes. He will burn it from the very beginning. Reem, who was his orphan cousin and had been named after him since childhood, was standing there with her head bowed like a criminal. The tears falling from her eyes were soaking her pale cheeks. "Oh... Azlan Pup... Please leave me... I tie my hair..." Her voice was getting lost in sobs.
The truth was that she had left in a hurry today. Due to completing assignments all night, she woke up late and in the chaos, she forgot to tie her hair. She was wearing the same simple cotton outfit that she wore at home, but in this simplicity, her waist-length black silky hair was giving her a charming look. Azlan's grip tightened even more. He wanted to tell her that he was not angry at her appearance but at his friend Riaz, who had praised Reem in front of Azlan with great boldness some time ago.
Dear Azlan, what is this fairy girl doing in your office? Look at her hair like black nails... My heart has fallen on her, if you say so, should I send her a relationship? Riaz's words fell like lead in Azlan's ears. He was not annoyed by Reem's open hair, he was bothered by why someone else looked at him with the look that he considered his only right. "Just shut up..."
Azlan roared. His face was so close to Reem's that she could feel the heat of his anger. "Today I will praise your beauty myself and I will do it in a way that you will never forget." Azlan's eyes were fixed on her innocent face. Reem's big, trembling eyes, her trembling eyelids and the scattered hair that was kissing her face were creating a strange excitement inside Azlan. He knew that Reem was a self-reliant girl. She did not want to be crushed by her father's favor, that's why she listened to his hot chatter in the office all day and stayed up all night working hard to meet her education expenses... But Azlan's jealousy had clouded her intellect.
"Do you think this office is for your display?" He tightly wrapped one of Reem's braids in his fingers. "Someone like Riyaz will come and see you and you will listen silently? Have you sold your dignity?"
Reem raised her head in anguish. There was now fear and sadness in her eyes. "Azlan... you know I'm not like that. I made a mistake. I just forgot to tie my hair. That doesn't mean you should kill my character."
Azlan's grip loosened for a moment, but then he controlled himself. Reem's innocence alone overwhelmed him. He considered it just a compulsion, a relationship that he had accepted only for the sake of his father. But his heart knew that whenever a non-man looked at Reem, he felt a fire burning in his being.
"I'm warning you, Reem," his tone was now low but extremely dangerous. "In the future, if you appear around my office in this manner with your hair open, no one will be worse than me. You are a worker here and act like a worker. This beauty, this behavior... "Save this for the four walls of the house." He released Reem with a jerk, which made her crash into the wall. Reem gathered her disheveled hair with shaking hands and quickly hid it in her dupatta. Her heart was beating badly. Without saying anything, she bowed her head and moved towards the cabin door... "And listen," Azlan's voice forced her to stop... He had already sat down in his chair, but his eyes were still on Reem. "Tell your friend that the girls of the Effendi family are not so cheap that any passerby would ask for their relationship." Reem did not turn around and looked at him, but quickly left the cabin. When the staff outside saw her leaving crying, they started whispering...

Urdu Sneak Peek

ازلان پپ۔۔پلیز چھوڑے مم۔۔مجھے میں بال باندھ لیتی ہوں۔۔۔۔جسٹ شٹ اپ تمہارے حسن کی تعریف تو آج میں خود کروں گا اور ایسی کروں گا کہ۔۔۔۔۔۔"
آفندی ایمپائرز کی بلند و بالا عمارت کی اٹھارویں منزل پر آج ایک عجیب سا تناؤ محسوس کیا جا رہا تھا۔ باہر کے بڑے ہال میں موجود عملہ اپنی اپنی جگہوں پر بالکل ساکت تھا کسی کو فائل پلٹنے تک کی جرات نہیں ہو رہی تھی۔ سب کی نظریں ازلان آفندی کے کیبن کے بند دروازے پر لگی تھیں جہاں سے تھوڑی دیر پہلے ایک گرج دار آواز سنائی دی تھی۔ کیبن کے اندر کا ماحول اس وقت شدید تناؤ کا شکار تھا۔ ازلان افندی جس کے نام سے بزنس کی دنیا کانپتی تھی اس وقت غصے کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔ اس نے ریم کے دونوں شانوں کو سختی سے جکڑ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا کر رکھا تھا۔ "بہت شوق ہے ناں تمہیں میرے آفس میں فیشن کر کے آنے کا؟" ازلان کی آواز کی گرج نے ریم کے وجود میں لرزہ طاری کر دیا۔۔۔۔ اس کے چہرے کے تاثرات اتنے سخت تھے کہ ریم کو لگ رہا تھا وہ اسے اپنی نظروں سے ہی جلا ڈالے گا۔ ریم جو اس کی یتیم کزن تھی اور بچپن سے اس کے نام سے منسوب تھی اس وقت ایک مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو اس کے پیلے پڑتے گالوں کو بھگو رہے تھے۔ "آ۔۔ازلان پپ۔۔پلیز چھوڑیں مم۔۔مجھے۔۔۔ میں بال باندھ لیتی ہوں۔۔۔" اس کی آواز ہچکیوں میں گم ہو رہی تھی۔
سچی بات تو یہ تھی کہ وہ آج جلدی میں نکلی تھی۔ رات بھر اسائنمنٹس مکمل کرنے کی وجہ سے اس کی آنکھ دیر سے کھلی اور اس افراتفری میں وہ بال باندھنا بھول گئی۔ اس نے وہی سادہ سا سوتی جوڑا پہنا ہوا تھا جو وہ گھر میں پہنتی تھی مگر اس سادگی میں اس کے کمر تک آتے سیاہ ریشمی بال اسے ایک سحر انگیز روپ دے رہے تھے۔ ازلان کی گرفت مزید سخت ہوئی۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ اسے غصہ اس کے حلیے پر نہیں بلکہ اپنے دوست ریاض پر آ رہا تھا جس نے کچھ دیر پہلے بڑی دیدہ دلیری سے ازلان کے سامنے ریم کی تعریف کی تھی۔
یار ازلان یہ پری سی لڑکی تمہارے آفس میں کیا کر رہی ہے؟ اس کے بال دیکھو جیسے کالی گھٹائیں۔۔۔ میرا دل تو اس پر آ گیا ہے تم کہو تو رشتہ بھیج دوں؟ ریاض کے یہ جملے ازلان کے کانوں میں سیسہ بن کر اترے تھے۔ اسے ریم کے کھلے بالوں سے چڑ نہیں تھی اسے تو تکلیف اس بات کی تھی کہ اسے کسی اور نے اس نظر سے کیوں دیکھا جسے وہ صرف اپنا حق سمجھتا تھا۔
"جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔"
ازلان دھاڑا۔ اس کا چہرہ ریم کے اتنا قریب تھا کہ وہ اس کے غصے کی تپش محسوس کر رہی تھی۔ "تمہارے حسن کی تعریف تو آج میں خود کروں گا اور ایسی کروں گا کہ تم کبھی بھول نہیں پاؤ گی" ازلان کی نظریں اس کے معصوم چہرے پر ٹھہری تھیں۔ ریم کی بڑی بڑی لرزتی آنکھیں اس کی کانپتی ہوئی پلکیں اور وہ بکھرے ہوئے بال جو اس کے چہرے کو چوم رہے تھے ازلان کے اندر ایک عجیب سا ہیجان پیدا کر رہے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ ریم ایک خوددار لڑکی ہے۔ وہ اس کے باپ کے احسان تلے نہیں دبنا چاہتی تھی اسی لیے تو دن بھر آفس میں اس کی جلی کٹی سنتی اور رات بھر جاگ کر اپنی پڑھائی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے محنت کرتی۔۔۔۔ مگر ازلان کا حسد اس کی عقل پر پردہ ڈال چکا تھا۔
"تمہیں لگتا ہے کہ یہ آفس تمہاری نمائش کے لیے ہے؟" اس نے ریم کی ایک لٹ کو سختی سے اپنی انگلیوں میں لپیٹا۔ "ریاض جیسا کوئی بھی آ کر تمہیں دیکھے گا اور تم خاموشی سے سنتی رہو گی؟ کیا تم نے اپنا وقار بیچ دیا ہے؟"
ریم نے تڑپ کر سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں اب خوف کے ساتھ ساتھ دکھ بھی تھا۔ "ازلان۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں ایسی نہیں ہوں۔ مجھ سے غلطی ہوئی میں بس بال باندھنا بھول گئی تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ میری کردار کشی کریں۔"
ازلان کی گرفت لمحہ بھر کو ڈھیلی ہوئی مگر پھر اس نے خود پر قابو پایا۔ اسے ریم کی یہ معصومیت ہی تو مغلوب کر دیتی تھی۔ وہ اسے صرف ایک مجبوری سمجھتا تھا ایک ایسا رشتہ جسے اس نے صرف اپنے باپ کی خاطر قبول کیا ہوا تھا۔ مگر اس کا دل جانتا تھا کہ جب جب کوئی غیر مرد ریم کی طرف دیکھتا اسے اپنے وجود میں آگ لگتی محسوس ہوتی۔
"وارننگ دے رہا ہوں تمہیں ریم" اس کا لہجہ اب دھیما مگر حد سے زیادہ خطرناک تھا۔ "آئندہ اگر تم اس حلیے میں ان کھلے بالوں کے ساتھ میرے آفس کے گرد بھی نظر آئیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ تم یہاں ایک ورکر ہو اور ایک ورکر کی طرح ہی رہو۔ یہ حسن یہ ادائیں۔۔۔ یہ گھر کی چار دیواری کے لیے بچا کر رکھو۔" اس نے جھٹکے سے ریم کو چھوڑا جس سے وہ دیوار سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ ریم نے لرزتے ہاتھوں سے اپنے بکھرے بال سمیٹے اور جلدی سے دوپٹے میں چھپا لیے۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ بغیر کچھ کہے سر جھکائے کیبن کے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔ "اور سنو" ازلان کی آواز نے اسے ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا۔۔۔
وہ اپنی کرسی پر بیٹھ چکا تھا مگر اس کی نظریں اب بھی ریم پر ہی تھیں۔ "اپنے اس دوست کو بتا دینا کہ افندی خاندان کی لڑکیاں اتنی سستی نہیں کہ کوئی بھی راہ چلتا ان کا رشتہ مانگ لے۔" ریم نے مڑ کر اسے نہیں دیکھا بس تیزی سے کیبن سے باہر نکل گئی۔ باہر موجود عملے نے اسے روتے ہوئے جاتے دیکھا تو سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Enter The Name of Requested Novel...

Previous Post Next Post