Guzarish By FS Complete PDF - Novelians Castle

Novel NameGuzarish
WriterFS Novels
CategorySecond Marriage

Most Attractive Sneak Peak Of Guzarish By FS Novels

"Send the incompetent person who made this tea inside, otherwise I will fire all of you!" Shahir shouted at his servants, and Maya felt her life was leaving her. Ever since she got married and came to this mansion, Shahir's mother had made her work instead of the servants. Maya would get tired working all day. Today she was feeling unwell, when she put salt in the tea instead of sugar. She shivered thinking of Shahir's anger. "That tea... I made the tea..." His voice cracked as he spoke. He was surprised to see his wife in this state. "Mum, you make me work?"
The man sitting in the hospital room was feeling as if the whole world was slipping away from him and he was unable to do anything. He had seen Zara's face crying. "I don't want to be separated from you. I got you with great difficulty... "She pleaded as if it were a last plea to a departing person not to leave her halfway, but with the certainty that he would still leave her and Zara's eyes were already watering like rain. She handed over the little being she had held to her chest to him...
"Our journey was this far, Shaheer, if I have ever done anything wrong, please forgive me..." Her face was as pale as a yellow and her lips were trembling constantly. Strange waves were scattered on her face due to the intensity of the pain, which was making her even more beg for mercy...
No one knew what torment she was going through at that time. It was not so easy to say goodbye to her love with her own hand, and then the being for whom she had risked her life. She was also leaving him. While kissing her son on the forehead, she handed over this little being to Shaheer and closed her eyes...
Just then the doctor entered the room. Shaheer immediately He moved towards the doctor, "Is there any solution, my Zara?" Before he could finish his speech, the doctor quickly moved towards Zara, whose neck was drooping to one side. He had only allowed her to meet Shaheer for a few minutes on her own request, otherwise her condition was very critical. The doctor immediately put an oxygen mask on her face. The waves in the machines began to emerge and disappear...
The doctor had begged him to go out and after taking one last look at this being, he went out where Zarnab Begum was sitting on the chair and Shaista Begum was standing in front of the door, looking at the door with uncertainty with her lips pursed, "Tell me, Shaheer, how is Zara?" "He asked eagerly but he had no words of comfort. He gently placed his hand on her shoulder.
"Pray a lot, Aunty, prayers are desperately needed." And at the same time, he had placed his son in Shaista Begum's hands. Zaranab Begum, who was sitting far away, seemed to have no concern. It is not easy to leave any human being dying, but perhaps it is easy for those who know how to be grateful, and that day too, it happened. After wrapping up this little one, Zaranab Begum immediately went home because according to her, a child can get sick here, and anyway, she was a very strange woman who had her own rules and regulations.
She did not have even a few words of comfort to give to her son, and that is what happened. Exactly an hour later, the doctor came and poured the news into his ears, which was like the trumpet of Israfil for her. Zara left him and went away, the Zara whom she had joined the hinges of the earth and heaven to adopt. She Zara, for whose love he fought the whole world with impatience. Today, she left him quietly, that day was a doomsday that he had not even thought about, chaos had broken out...
Zarnab Begum said that Zara's parents had more rights over her dead body than her and they were ready to adopt her. He was not in a state at that time to understand any conspiracy. He was immersed in the depths of sorrow at that time, which was doomsday for him. Doomsday had descended on his head. With Zara, his world became silent, everything was gone, all happiness was incomplete when that day, not even three months had passed since Zara passed away, when his mother came to his room and immediately put her decision in front of him...
I can no longer handle your son. You need a wife and your son needs a mother, so come to your senses and come out of this sorrow now." He kept looking at his mother with uncertainty. "Mum, you know it is not easy for me to forget Zara." But this was Zarnab Begum's stubbornness. "You have already humiliated me by remaining stubborn for Zara, but you are my only son and now I cannot see your life ruined like this." His mother was right no matter what she said...
He had shown selfishness for Zara, even though she was his mother's right to choose a life partner for him of her own free will, he stuck to his stubbornness. "I will raise my son myself and anyway, the lack of a guardian in my life or in Muhtar's life is not a reason enough to give Zara to someone else..." She had named her son Muhtar only thinking that his whole life would revolve around this one person...
Otherwise, it would not have been easy for him to survive his life like this after Zara. "Don't be crazy. If you don't listen to me, I will go to your uncles in England and you know very well that I will not come back. I also have a life like yours."

Urdu Sneak Peek

یہ چائے جس نالائق نے بنائی ہے اسے اندر بھیجو، ورنہ تم سب کی چھٹی کر دوں گا!" شاہیر اپنے ملازموں پر چیخا تو مایہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی۔ وہ جب سے بیاہ کر اس حویلی آئی تھی، شاہیر کی ماں نوکروں کی جگہ اس سے کام کرواتی تھیں۔ مایا سارا دن کام کرتے کرتے تھک جاتی۔ آج اس کی طبیعت خراب تھی، جبھی
چائے میں چینی کی جگہ نمک ڈال دی۔ شاہیر کے غصے کا سوچتی وہ کانپ اُٹھی۔ "وہ چا۔۔۔۔۔چائے میں نے بنائی تھی۔۔۔۔ " بولتے ہوئے اُس کی آواز رندھ گئی۔ اپنی بیوی کو اس حلیے میں دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ " مام تم سے کام کرواتی ہیں؟"
ہاسپٹل کے کمرے میں بیٹھا ہوا شخص اس وقت یوں محسوس کر رہا تھا جیسے ساری دنیا اس کے ہاتھ سے سرکتی جا رہی ہو اور وہ کچھ بھی نہ کر پا رہا ہو اس نے روتے ہوئے زارہ کے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔" میں تم سے بچھڑنا نہیں چاہتا میں نے تمہیں بہت مشکل سے حاصل کیا ہے۔۔۔ " اس نے التجا کی جیسے بچھڑتے ہوئے شخص سے آخری التجا کی جائے کہ وہ اسے آدھے راستے میں چھوڑ کر مت جائے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ وہ پھر بھی چھوڑ کر چلا جائے گا اور زارہ کی آنکھیں تو پہلے ہی ساون کی طرح برس رہی تھیں ۔ اس نے اپنے سینے سے لگایا ہوا وہ ننھا وجود اس کے حوالے کر دیا۔۔۔
" ہمارا سفر یہیں تک تھا شہیر اگر کبھی کوئی غلطی کی ہو تو معاف کر دیجئے گا۔۔۔" اس کے چہرے کی رنگت زردی کی طرح تھی اور لب مسلسل کانپ رہے تھے۔ تکلیف کی شدت سے اس کے چہرے پر عجیب سی لہریں بکھری ہوئی تھیں جو اسے مزید رحم طلب بنا رہی تھیں۔۔۔
کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اس وقت وہ کس اذیت سے گزر رہی ہے۔ اپنے ہاتھ سے اپنی محبت کو الوداع کہہ دینا اتنا آسان تو نہیں ہوتا اور پھر وہ وجود جس کے لیے اس نے زندگی کی بازی لگا دی۔ وہ اس سے بھی بچھڑ رہی تھی اپنے بیٹےکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے اس نے اس ننھے وجود کو شہیر کے حوالے کیا اور آنکھیں بند کردیں۔۔۔
تبھی کمرے میں ڈاکٹر داخل ہوئی تھیں شہیر فورا ڈاکٹر کی جانب بڑھا ڈاکٹر صاحبہ کوئی تو حل ہوگا میری زارا ؟؟؟ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کر پاتا جب ڈاکٹر تیزی سے زارہ کی جانب بڑھی جس کی گردن ایک جانب ڈھلک رہی تھی اسے بس کچھ منٹس کے لیے اس کی اپنی التجا پر شہیر سے ملنے دیا تھا ورنہ اس کی کنڈیشن بہت کتیٹیکل تھی ڈاکٹر نے فورا آکسیجن ماسک اس کے چہرے پر لگا دیا مشینوں میں لہریں ابھرتی ہوئی معدوم ہونے لگیں۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اس سے التجا کی تھی وہ باہر چلا جائے اور اس وجود پر ایک آخری نظر ڈال کر وہ باہر چلا آیا جہاں زرناب بیگم چیئر پر بیٹھی ہوئی تھیں اور دروازے کے آگے کھڑی شائستہ بیگم ورد کرتے ہوئے لبوں کے ساتھ بے یقینی سے دروازے کو دیکھ رہی تھیں " مجھے بتاؤ شہیر بیٹا زارا کیسی ہے۔۔۔؟؟؟ " انہوں نے بے تابی سے پوچھا لیکن اس کے پاس تسلی آمیز الفاظ نہیں تھے اس نے نرمی سے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔۔
" بہت ساری دعا کریں آنٹی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔۔" اور ساتھ ہی اس نے اپنے بیٹے کو شائستہ بیگم کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا دور بیٹھی ذرناب بیگم کو جیسے کوئی پرواہ نہیں تھی اتنا آسان تو نہیں ہوتا کسی بھی انسان کو مرتے ہوئے چھوڑ دینا لیکن شاید ان لوگوں کے لیے آسان ہوتا ہے جو ٹھکور دینا جانتے ہوں اور اس روز بھی ایسا ہی ہوا تھا اس ننھے سے وجود کو سمیٹ کر ذرناب بیگم فورا گھر چل پڑیں کیونکہ ان کے بقول یہاں بچہ بیمار ہو سکتا ہے اور ویسے بھی وہ بہت عجیب خاتون تھیں جن کے اپنے اصول و ضوابط تھے۔۔۔۔۔
ان کے لیے اپنے بیٹے کو دینے کے لیے تسلی کے چند الفاظ بھی نہیں تھے اور وہی ہوا ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹر نے آکر وہ خبر اس کے کانوں میں انڈیل دی جو اس کے لیے صور اسرافیل کی طرح تھی زارا اسے چھوڑ کر چلی گئی وہ زارا جسے اپنانے کے لیے اس نے زمین آسمان کے قلابے ملا دیے ۔ وہ زارا جس کی محبت کے لیے وہ بے چین ہو کر ساری دنیا سے لڑ پڑا۔ آج اسے چپ چاپ چھوڑ کر چلی گئی وہ دن قیامت خیز تھا جس کے بارے میں اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہرام برپا تھا۔۔۔۔
زرناب بیگم نے کہہ دیا کہ زارا کی ڈیڈ باڈی پر ان سے زیادہ اس کے والدین کا حق ہے اور وہ تو اسے اپنانے کے لیے تیار کھڑے تھے وہ اس وقت اس کیفیت میں نہیں تھا کہ کسی بھی سازش کو سمجھ پاتا وہ اس وقت دکھ کی ان گہرائیوں میں ڈوبا ہوا تھا جو اس کے لیے قیامت خیز تھی سر پر قیامت اتری ہوئی تھی۔ زارہ کے ساتھ اس کی دنیا ہی ساکت ہو گئی سب کچھ چلا گیا تھا ساری خوشیاں ادھوری ہو گئیں جب اس روز ابھی زارا کو گئے ہوئے تین مہینے بھی نہیں گزرے تھے جب اس کی ماں اس کے کمرے میں آئی اور آتے ہی اپنا فیصلہ اس کے سامنے رکھ دیا تھا۔۔۔۔
میں تمہارے بیٹے کو مزید نہیں سنبھال سکتی تمہیں بیوی کی اور تمہارے بیٹے کو ماں کی ضرورت ہے اس لیے ہوش کے ناخن لو اور اب اس دکھ سے باہر نکل آؤ۔" وہ بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھتا رہ گیا۔ " مما آپ جانتی ہیں کہ زارا کو بھول جانا میرے لیے آسان نہیں ہے۔۔" لیکن یہ زرناب بیگم کی ضد تھی " تم نے پہلے ہی زارا کے لیے اپنی ضد پر قائم رہ کر مجھے نیچا دکھایا ہے لیکن تم میرے اکلوتے بیٹے ہو اور اب میں تمہاری زندگی کو یوں برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔۔" اس کی ماں ٹھیک کہتی تھی جو بھی کہتی تھی۔۔۔
اس نے زارہ کے لیے خود غرضی کا مظاہرہ کیا تھا حالانکہ وہ اسکی ماں اپنی مرضی سے اس کے لیے لائف پارٹنر منتخب کرنے کا حق رکھتی ہیں وہ اپنی ضد پر اٹک گیا۔۔ " میں اپنے بیٹے کو خود پال لوں گا اور ویسے بھی زارا کی جگہ کسی اور کودینے کے لیے یہ ایک وجہ کافی نہیں ہے کہ میری زندگی میں یا محور کی زندگی میں کسی نگران کی کمی ہے۔۔۔" اس نے اپنے بیٹے کا نام محور رکھا تھا صرف اس سوچ پر کہ اس ایک کے گرد اس کی ساری زندگی گھومتی رہ جائے گی۔۔۔۔
ورنہ زارا کے بعد اپنی زندگی کو اس طرح سےگزار پانا اس کے لیے آسان نہیں تھا۔۔ " پاگل پن مت کرو اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو میں تمہارے ماموں کے پاس انگلینڈ چلی جاؤں گی اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں پھر واپس پلٹ کر نہیں آؤں گی میری بھی زندگی ہے تمہارے بابا کے بعد میں نے تمہیں کتنی مشکلات سے اپنا سہارا بنایا ہے تم اس بات کو جانتے ہو۔۔۔۔" زرناب بیگم کے بہتے ہوئے آنسو اس کے لیے کمزوری تھے اور وہ یہ کمزوری تسلیم بھی کرتا تھا۔۔۔
" میں آپ کو اداس نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ "وہ خود بھی رو پڑا زارہ کے بعد وہ اتنا ہی کمزور مرد بن چکا تھا کہ چھوٹی سی چھوٹی بات بھی اسے رلا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے اور اس روز بھی ایسا ہی ہوا زرناب بیگم کی کوشش کامیاب ہوئی اور اگلے ہی کچھ دنوں میں انہوں نے اس کے لیے دلہن بھی تلاش کر لی وہ کمرے میں آکر اس کے سامنے تصویر رکھ چکی تھیں لیکن اس نے منہ پھیر لیا

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Enter The Name of Requested Novel...

Previous Post Next Post