Meri Khamoshi Mera Inteqam By Zeeshan Novels - Novelians Castle



Novel NameMeri Khamoshi Mera Inteqam
WriterZeeshan Novels
CategoryLong Distance Based

Most Attractive Sneak Peak Of Meri Khamoshi Mera Inteqam By Zeeshan Novels

"You are a bad girl, aren't you ashamed of betraying my brother's trust, being unfaithful to him, having an affair with someone else while he was married to her? Didn't you go to the hospital before doing all this???" Maria shouted while grabbing her arm and saying, "This was the same Maria who used to shower her with love, her childhood friend and cousin, like a sister, but Nisha at that time felt like she was only criticizing herself because friends don't say such words..."
"What are you trying to say, Maria???" Bijan asked Maria while pulling Nisha away from her. They couldn't understand anything. They all came after hearing Maria's screams. When Bijan asked, Maria hit some pieces of paper on her face. "Bijan, ask your beloved granddaughter how she is pregnant?" She stood there with her head bowed like a criminal, while Bijan and Aaliya Amma's faces were filled with tears and everyone else's mouths were open in surprise.
"Yes, your granddaughter has been doing what she knows where, she is in her third month...." Maria's tongue was continuously spewing venom and she was unable to explain herself even if she wanted to. Nisha wanted to say something but her tongue was not working. She could not meet everyone's eyes, so where would she find the words to speak? Aaliya Amma stepped forward, took Nisha's face in her hands and said, looking into her eyes...
"Tell me, my daughter, this is all a lie. You can't publicly disgrace our honor like this. Is this a lie?" He asked with full conviction, but Nisha lowered her head again, so she took two steps back in uncertainty, meaning she was in the middle of hope. Then all of a sudden, he slapped Nisha on the face and asked forcefully. "Whose sin is this??" Maria looked at Nisha with hatred, feeling bad for Nisha's silence...
"Why don't you tell me whose sin are you nurturing in your belly? Didn't you think a bit while betraying my innocent brother? Did you take advantage of his absence???" Nisha raised her head in anguish. "I haven't committed any sin. This is my and Asad's child..." The words were still in her mouth when Tai stepped forward and slapped her on the face again...
"The poor man who tried to pin his sin on my son, he had gone out two or three days after the wedding, so don't even try to accuse him..." Tai had warned him by raising his finger. Bijan looked at Maria. "How did you know all this??" Maria started to say. "If I hadn't chased her to the doctor today, we wouldn't have known how far she had progressed." Maria picked up all the reports from the ground and showed them to Bijan and started telling them...
"I had been suspicious of her for a long time after seeing her deteriorating health and since she was going to the doctor again and again these days, I was worried, what was the matter??" That's why I went after him, but I didn't even think that it would come out like this." Nisha folded her hands in front of Bijan while crying... "Bijan, believe me, I have not committed any sin, this is my and Asad's legitimate child..."
Maria looked at him in a contemptuous manner and started clapping her hands and said. "Wow, what a clever woman you are. You know very well that we have not had any contact with Asad Bhai for the last two months, so you took advantage of the opportunity and took his name..." Nisha shook her head in denial and said.
"I am not taking advantage of any opportunity, I am only telling the truth, this is my and Asad's child, take any oath from me." Aaliya's mother was as if she was shocked... "You have raised questions about my training, Nisha, I did not train you like this, first of all, your mother taught you a lesson in respect and honor..." At that moment, the sound of a car stopping was heard from outside, the man of the house returned from work. They had arrived...
Who was there among the men of the house, uncle and Nisha's father, whom everyone called Agha Jan? Bijan suddenly stood up and said in a whispering voice, "Beware, this matter should not reach the men of the house, everyone be quiet..." Maria did not agree to this... "Bijan, from whom will we hide this matter??" The matter had escalated to the limit...
Tai looked at her and said in a venomous tone, "I cannot let this shameless and bad-natured girl remain my daughter-in-law any longer. As soon as I get in touch with Asad, I will ask her to divorce me at the first opportunity..." Nisha sadly saw herself at what point she was standing that not only her child had been made a question mark, but her house was also close to collapse...
She grabbed Bijan's feet, "Just let me talk to Asad, I will prove my truth to you. As soon as you get in touch with him, you will undoubtedly ask this first thing. "You will take it, give me a chance till then. If I am found to be a liar, I will accept the punishment you give me without any questions..." Bijan had to believe the truth of his tone, even though she did not want the honor of the house and the matter of the house to come to the people's lips.
Therefore, he ordered Nisha to confine herself to her room and asked her to contact Asad as soon as possible. When she came into the room, she burst into tears. She was not as hurt by the slap marks on her face as she was by the hurtful words Maria had delivered. She was her friend and confidant, a child.

Urdu Sneak Peek

" تم ایک بد کردار لڑکی ہو شرم نہیں آئی تمہیں میرے بھائی کی امانت میں خیانت کرتے ہوئے اس سے بے وفائی کرتے ہوئے تم نے اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور کے ساتھ تعلق بنایا یہ سب کرنے سے پہلے تم مرکیوں نہیں گئی؟؟؟ " ماریہ نے اس کا بازو د بوچتے ہوئے چلا کر کہا یہ وہی ماریہ تھی جو اس پر جان چھڑکتی تھی اس کی بچپن کی دوست اور کزن،، بہن جیسی مگر نشا کو اس وقت وہ صرف اپنی نند لگ رہی تھی کیونکہ دوستیں تو ایسے الفاظ نہیں بولتیں۔۔۔۔
" تم کہنا کیا چاہ رہی ہو ماریہ؟؟؟ " بی جان نے ماریہ کو نشا سے پیچھے کرتے ہوئے پوچھا ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا وہ سب ماریہ کا چیخنا چلانا سن کر
آئے تھے بی جان کے پوچھنے پر ماریہ نے کچھ کاغذ کے ٹکڑے اس کے چہرے پر مارے تھے۔۔ " بی جان پوچھیں اپنی اس لاڈلی پوتی سے کہ یہ پریگننٹ کیسے ہے؟؟ " وہ مجرموں کی طرح سرجھکائے کھڑی تھی جبکہ بی جان اور عالیہ اماں کے چہرے پر تو ہوائیاں ہی اڑ گئی تھیں اور باقی سب کے منہ بھی حیرانی کے مارے کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔۔
" جی ہاں آپ کی یہ پوتی جانے کہاں پر کیا کیا گل کھلاتی رہی ہے اس کا تیسرا ماہ چل رہا ہے۔۔۔ " ماریہ کی زبان مسلسل زہر اگل رہی تھی اور وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی صفائی پیش نہیں کر پارہی تھی نشا نے کچھ کہنا چاہا مگر اس کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی وہ سب کی انکھوں میں آنکھیں نہیں ملا سکتی تھی تو بولنے کے لیے الفاظ کہاں سے لاتی؟؟ عالیہ ماں نے آگے بڑھ کر نشا کے چہرے کو ہاتھوں میں لیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
" کہہ دے میری بچی یہ سب جھوٹ ہے تم ہماری عزت کو یوں سر عام رسوا نہیں کر سکتی یہ جھوٹ ہے نا؟؟ " انہوں نے پورے یقین کے ساتھ سوال کیا تھا مگر نشا نے پھر سے سر کو نیچے جھکا لیا تو وہ بے یقینی سے دو قدم پیچھے ہٹی تھیں یعنی وہ بیچ میں امید سے تھی پھر ایک دم انہوں نے زور دار طریقے سے نشا کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے پوچھا۔۔ " کس کا گناہ ہے یہ؟؟ " ماریہ نے نفرت سے نشا کو دیکھا اسے نشا کا چپ رہنا بر ا لگ رہا تھا۔۔۔
" بتاتی کیوں نہیں ہو کہ کس کے گناہ کو اپنے پیٹ میں پال رہی ہو؟؟ میرے معصوم بھائی کو دھوکہ دیتے ہوئے تم نے ذرا نہیں سوچا؟؟ اس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھایا تم نے؟؟؟ " نشا نے تڑپ کر سر اٹھایا۔۔ " میں نے کوئی گناہ نہیں کیا یہ میرا اور اسد کا بچہ ہے۔۔۔" ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ تائی نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے پر پھر سے تھپڑ مار دیا۔۔۔
" خبر دار جو میرے بیٹے کے سر اپنے گناہ کو تھوپنے کی کوشش کی وہ بیچارا تو نکاح کےدو تین دن بعد ہی باہر چلا گیا تھا تو اس پر تو یہ الزام لگانے کی بالکل بھی کوششں مت کرنا۔۔۔" تائی نے اسے انگلی اٹھا کر وارننگ دی تھی بی جان نے ماریہ کو دیکھا۔۔ " تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟؟ مار یہ نے کہنا شروع کیا۔۔ " اگر آج میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے ڈاکٹر تک نہ پہنچتی تو ہمیں تو معلوم ہی نہ ہو تا کہ یہ کس حد تک آگے جاچکی ہے۔۔" ماریہ نے زمین پر سے ساری ریپوٹس اٹھا کر بی جان کے سامنے کیں اور انہیں بتانے لگی۔۔۔
" مجھے کافی دن سے اس کی گری گری طبیعت دیکھ کر اس کے بارے میں شک ہو رہا تھا اور یہ جو آج کل بار بار ڈاکٹر کے پاس جارہی تھی تو مجھے پریشانی لگی تھی کہ کیا بات ہے؟؟ اس لیے اس کے پیچھے گئی لیکن بات یہ نکلے گی یہ تو میں نے بھی نہیں سوچا تھا۔۔" نشا نے روتے ہوئے بی جان کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔ " بی جان میرا یقین کریں میں نے کوئی گناہ نہیں کیا یہ میرا اور اسد کا جائز بچہ ہے۔۔۔"
ماریہ نے حقارت والے انداز میں اسے دیکھا اور تالیاں بجاتے ہوئے کہنے لگی۔ " واہ کتنی شاطر عورت ہو تم تمہیں اچھے سے پتہ ہے کہ ہمارا پچھلے دوماہ سے اسد بھائی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے تو تم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہی کا نام لے دیا۔۔۔" نشا نے نفی میں سر بلاتے ہوئے کہا۔۔
"میں کوئی موقع کا فائدہ نہیں اٹھار ہی میں صرف سچ بتارہی ہوں یہ میرا اور اسد کا ہی بچہ ہے مجھ سے کوئی بھی قسم اٹھا لیں۔۔" عالیہ ماں تو جیسے ڈھے سی گئی تھیں۔۔۔ " تم نے میری تربیت پر سوال کھڑا کر دیا ہے نشا میں نے تمہیں اس طرح کی تربیت نہیں دی تھی سب سے پہلے تمہیں عزت اور شرافت کا سبق پڑھایا تھا تمہاری ماں نے تمہیں۔۔۔۔" اسی وقت باہر سے گاڑی رکنے کی آواز سنائی دی تھی گھر کے مرد کام سے واپس آچکے تھے۔۔۔
گھر کے مردوں میں تھا ہی کون تایا جان اور نشا کے ابو جان جنہیں سب آغا جان کہتے تھے بی جان ایک دم سے کھڑی ہو گئیں اور سر گوشی کی سی آواز میں کہنے لگیں " خبر دار یہ معاملہ گھر کے مردوں تک نہ پہنچے سب خاموش ہو جاؤ۔۔۔" ماریہ کو یہ منظور نا ہوا۔۔۔ " بی جان ہم کس کس سے یہ بات چھپائیں گے؟؟" معاملہ حد سے زیادہ بڑھ چکا تھا۔۔۔
تائی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے زہر خند لہجے میں کہا " میں اس بے حیا اور بد کردار لڑکی کو مزید اپنی بہو ہرگز بھی نہیں رہنے دے سکتی جیسے ہی میرا اسد سے رابطہ ہوتا ہے تو پہلی فرصت میں اسے طلاق دینے کا کہوں گی۔۔۔" نشا نے افسوس سے خود کو دیکھا وہ کس موڑ پر آکھڑی ہوئی تھی کہ نہ صرف اس کے بچے کو سوالیہ نشان بنادیا گیا تھا بلکہ اس کا گھر بھی ٹوٹنے کے قریب تھا۔۔۔
اسنے بی جان کے پاؤں پکڑ لیے " مجھے بس اسد سے بات کرنے دیں میں آپ کو اپنی سچائی ثابت کر کے رہوں گی جیسے ہی آپ کا اس سے رابطہ ہوتا ہے آپ بے شک سب سے پہلی بات یہی پوچھ لیجئے گا تب تک مجھے ایک موقع دے دیجیے اگر میں جھوٹی نکلی تو آپ جو سزا دیں گی میں بغیر کوئی سوال کیے اسے مان لوں گی۔۔۔" اس کے لہجے کی سچائی پر نہ چاہتے ہوئے بھی بی جان کو یقین کرنا پڑا یوں بھی وہ نہیں چاہتی تھیں کہ گھر کی عزت اور گھر کا معاملہ لوگوں کی زبان تک آئے۔۔۔
اس لیے انہوں نے نشا کو اس کے کمرے تک محدود ہو جانے کا حکم دیتے ہوئے جلد سے جلد اسد سے رابطہ کرنے کو کہا کمرے میں آکر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی اتنی تکلیف اسے اپنے چہرے پر پڑے تھپڑوں کے نشانات سے نہیں ہوئی تھی جتنی ماریہ کے پہنچائے گئے تکلیف دے الفاظ سے۔۔ وہ تو اس کی دوست اور ہم راز تھی بچپن سے وہ دونوں ساتھ تھے تو ایسے کیسے وہ اس پر بدکرداری کا اتنا بڑا الزام لگا سکتی تھی کیا وہ مجھے بالکل بھی نہیں جانتی تھی کہ میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں دکھ تھا کے بڑھتا ہی جارہا تھا اس نے ایک امید کے تحت موبائل پر پھر سے اسد کا نمبر ڈائل کیا اور ہر بار کی طرح اس بار بھی وہی مایوس کن جواب تھا کہ وہ نمبر بند جارہا ہے۔۔۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Enter The Name of Requested Novel...

Previous Post Next Post