Ishq Mubarak By Wahiba Fatima - Novelians Castle

Novel NameIshq Mubarak
WriterWahiba Fatima
CategoryEmergency Nikah

Most Attractive Sneak Peak Of Ishq Mubarak By Wahiba Fatima

"Shh... Shavir Lala himself called me there, he is lying now." She had spoken to her mother when her mother slapped her on the face the next moment. While Shahvir stood there with clenched teeth, he was engaged to her, but after the incident that happened today, he was breaking his family tradition and ending the engagement. Because she was caught in a room with a boy in a nightclub, but he was unaware that Shahvir's special friend had called her from Shahvir's phone and called the club speaking in Shahvir's voice. "You are very stupid, Shahvir Lala." She had shouted when her father had shouted and called the marriage groom and married her to his employee who had been disabled in an accident two months ago...
"Shavir Lala? You...". "I am sending you an address right now. Get there immediately, I have something very important to tell you." The voice on the phone said very sternly. "But how can I come??? You just stopped me from leaving the house, and mom and dad..." Almas panicked. "If you don't reach this address in the next half hour, I will call the dean of the university right away and cancel your admission forever. Now it's your choice whether you value your studies or your stubbornness. I'm waiting there, and yes... no one in the house should know about it..." Before Almas could say anything else, the call was disconnected.
The next second, a location message came on her phone. Almas's whole body started shaking with fear and anger. She was well aware of Shahveer's anger and his strength, she knew that he would do what he said. Her innocent heart was beating badly, she didn't understand why Shahveer was calling her out alone like this??? She quickly adjusted her scarf around her neck, wiped her tears and headed towards the back door where no employee was present at that time.
She left the mansion, filled with an unknown fear and a bitter feeling at Shahveer's oppressive behavior. She had no idea that she was walking towards a quagmire where disgrace awaited her. The car that had dropped Almas at her destination moved forward with a loud jolt, but Almas's feet sank into the ground there. In front of her was a well-known club in the city, the colorful lights on its tall building were shining in a strange and terrifying way in the darkness of the night...
The beat of the loud, ear-splitting music coming from inside could be felt even outside. Almas tightened the silk scarf wrapped around her neck even more tightly. Her innocent and tender heart began to tremble violently at the sight of this environment. "Why did Shahveer Lala call me here? He himself is so conservative, then what is he doing here?" She pursed her trembling lips. Her mind was reeling with fear, but Shahveer's threat that "If you don't come, I will cancel your entry forever..." had become a chain to her feet.
Taking a deep breath, she walked towards the club's heavy glass door with heavy and trembling steps. As soon as she entered, the bright lights and cigarette smoke suffocated her. Boys and girls were dancing everywhere to the tune of fast music. Almas closed her eyes in fear, she was completely alien to this environment. "Is your name Almas?" Suddenly a strange boy stood in front of her. There was a strange, sly smile on his face that Almas could not recognize in her panic. "J... Yes. Where is Shahveer? He called me here," Almas said, trying to control her trembling voice.
"Yes, Shahveer Bhai is waiting for you inside VIP room number four. He has said that you should be taken straight inside. Come with me..." The boy pointed to one side and moved forward. Almas had no choice but to follow him. They walked through a long corridor and reached a door on which Room Four was written... "Go inside, they will be here soon." The boy opened the door, and it was semi-dark inside...
As soon as Almas entered the room, a loud voice came from behind her. "Khat!..." The door was closed and there was a clear sound of a lock being locked from outside. Almas's heart was in her throat. She jumped up and turned the handle, but it was locked. "Open the door! What is this joke? Shahveer Lala! Are you outside? Open the door!" She started banging on the door frantically. Her innocence was still making her think that Shahveer had called her here and maybe someone else was trying to trap her here before she arrived. She was completely unaware of the truth that a sincere and cunning friend of Shahveer had set up this whole trap to ruin her and the boy who had brought her in was his pawn.
At that moment, in the main hall of the club, Shahveer was sitting on a sofa with some of his important business clients. He had come there for a very important deal, but his mood was still very bad because of the incident that morning. Suddenly, his same close friend came running to him. The fake panic and cunning were clearly visible on his face. "Shahveer! I'm angry, man! I just saw your fiancée Almas. She... she went to room number four in the corridor with some boy!" "You're talking nonsense!" Shahveer suddenly got up from the sofa. There was such intensity and anger in his voice that the people around him turned to look.
His deep brow

Urdu Sneak Peek

" شش۔۔ شاویر لالا نے مجھے خود وہاں بلایا تھا یہ اب جھوٹ کہہ رہے ہیں"۔ وہ اپنی ماں سے بولی تھی جب ماں نے اگلے لمحے اس کے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔ جبکہ شاہویر دانت بھینچے کھڑا تھا وہ اس کی منگ تھی پر آج ہوئے واقعے کے بعد وہ اپنی خاندان کی روایت کو توڑتا اس منگنی کو ختم کر رہا تھا۔ کیونکہ وہ ایک نائٹ کلب میں ایک لڑکے کے ساتھ کمرے میں پکڑی گئی تھی پر وہ انجان تھا کہ شاہویر کے خاص دوست نے شاہویر کے فون سے اسے کال کر کے شاہویر کی آواز میں بات کرتے کلب بلایا تھا۔ "آپ بہت گھٹیا ہیں شاہویر لالا"۔ وہ چلائی تھی جب اس کا باپ دھاڑا تھا اور نکاح خواں کو بلایا تھا اور اس کا نکاح اپنے اس ملازم سے کر دیا تھا جو دو ماہ پہلے حادثے میں معذور ہوا تھا۔۔۔
" شاہویر لالا؟ آپ۔۔۔"۔۔ "ابھی کے ابھی میں تمہیں ایک ایڈریس میسج کر رہا ہوں۔ وہاں فوراً پہنچو ، مجھے تم سے کچھ انتہائی ضروری بات کرنی ہے۔" فون پر موجود آواز نے انتہائی سختی سے کہا۔ "لیکن میں کیسے آؤں؟؟؟ ابھی تو آپ نے مجھے گھر سے نکلنے سے روکا تھا، اور امی اور دادی۔۔۔ "الماس نے گھبرا کر کہا۔ "اگر تم اگلے آدھے گھنٹے میں اس ایڈریس پر نہ پہنچیں، تو میں اسی وقت یونیورسٹی کے ڈین کو فون کر کے تمہارا داخلہ ہمیشہ کے لیے کینسل کروادوں گا۔ اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ تمہیں اپنی پڑھائی عزیز ہے یا اپنی ضد۔ میں وہاں انتظار کر رہا ہوں، اور ہاں۔۔۔ گھر میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔" اس سے پہلے کہ الماس کچھ اور کہتی، فون کٹ گیا۔
اگلے ہی سیکنڈ اس کے فون پر ایک لوکیشن کا میسج آیا۔ الماس کا پورا جسم خوف اور غصے کے مارے کانپنے لگا۔ وہ شاہویر کے غصے اور اس کی طاقت سے اچھی طرح واقف تھی، وہ جانتی تھی کہ وہ جو کہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اس کا معصوم دل بری طرح دھڑک رہا تھا، اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ شاہویر اسے اس طرح اکیلے باہر کیوں بلا رہا ہے؟؟؟ اس نے جلدی سے اپنے گلے میں دوپٹہ ٹھیک کیا، اپنے آنسو پونچھے اور پچھلے دروازے کی طرف بڑھی جہاں اس وقت کوئی ملازم موجود نہیں تھا۔
وہ دل میں ایک انجانے خوف اور شاہویر کے جابرانہ رویے پر کڑھتی ہوئی حویلی سے باہر نکل گئی۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے پاؤں سے ایک ایسی دلدل کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں رسوائی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ گاڑی جس نے الماس کو اس کی منزل پر اتارا تھا، ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ آگے بڑھ گئی، لیکن الماس کے قدم وہیں زمین میں دھنس کر رہ گئے۔ اس کے سامنے شہر کا ایک معروف کلب تھا، جس کی اونچی عمارت پر لگی رنگ برنگی لائٹس رات کے اندھیرے میں عجیب وحشت ناک طریقے سے چمک رہی تھیں۔۔۔۔
اندر سے آنے والی تیز، کان پھاڑ دینے والی موسیقی کی تھاپ باہر تک محسوس ہو رہی تھی۔ الماس نے اپنے گلے میں لپیٹے ریشمی دوپٹے کو مزید مضبوطی سے جکڑا۔ اس کا معصوم اور الہڑدل اس ماحول کو دیکھ کر بری طرح لرزنے لگا تھا۔ " شاہویر لالا نے مجھے یہاں کیوں بلایا؟ وہ تو خود اتنے قدامت پسند ہیں، پھر وہ اس جگہ کیا کر رہے ہیں؟"۔ اس نے اپنے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کو بھینچا۔ اس کا ذہن خوف کے مارے سن ہو رہا تھا، لیکن شاہویر کی وہ دھمکی کہ "اگر تم نہ آئیں تو تمہارا داخلہ ہمیشہ کے لیے کینسل کروادوں گا۔۔۔۔" اس کے پیروں کی زنجیر بن چکی تھی۔
وہ ایک گہرا سانس لے کر ، بوجھل اور کانپتے قدموں سے کلب کے بھاری شیشے کے دروازے کی طرف بڑھی۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی، تیز لائٹس کی چمک اور سگریٹ کے دھوئیں نے اس کا دم گھوٹ دیا۔ ہر طرف لڑکے اور لڑکیاں تیز موسیقی کی دھن پر جھوم رہے تھے۔ الماس نے گھبرا کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، وہ اس ماحول کے لیے بالکل اجنبی تھی۔ "کیا آپ کا نام الماس ہے؟۔۔۔" اچانک ایک اجنبی لڑکا اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب، مکارانہ مسکراہٹ تھی جسے الماس اپنی گھبراہٹ میں بھانپ نہ سگی۔" ج۔۔۔ جی۔ شاہویر کہاں ہیں؟ انہوں نے مجھے یہاں بلایا تھا" الماس نے اپنی لرزتی ہوئی آواز کوسنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
" جی، شاہویر بھائی اندر وی آئی پی روم نمبر چار میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو سیدھا اندر پہنچا دیا جائے۔ آئیں میرے ساتھ۔۔۔" لڑکے نے ایک طرف اشارہ کیا اور آگے بڑھ گیا۔ الماس کے پاس اس کے پیچھے چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ ایک طویل کوریڈور سے گزرتے ہوئے ایک دروازے کے سامنے پہنچے، جس پر روم چار لکھا تھا۔۔۔۔" اندر جائیے ، وہ بس آتے ہی ہوں گے۔" لڑکے نے دروازہ کھولا تو اندر نیم اندھیرا تھا۔۔۔۔
الماس جیسے ہی اس کمرے کے اندر داخل ہوئی، اس کے پیچھے ایک زور دار آواز آئی۔ "کھٹ!۔۔۔" دروازہ بند ہوچکا تھا اور باہر سے لاک لگنے کی واضح آواز آئی۔ الماس کا دل حلق میں آگیا۔ اس نے لپک کر ہینڈل کو گھمایا، لیکن وہ لاک تھا۔ "دروازہ کھولو! یہ کیا مذاق ہے؟ شاہویر لالا! آپ باہر ہیں؟ دروازہ کھولیں! "۔ وہ دیوانہ وار دروازہ پیٹنے لگی تھی۔ اس کی معصومیت اسے اب بھی یہ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ شاہویر نے اسے یہاں بلایا ہے اور شاید اس کے آنے سے پہلے کوئی اور اسے یہاں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ اس سچائی سے بالکل بے خبر تھی کہ شاہویر کے ایک مخلص نما مکار دوست نے اسے
اسے برباد کرنے کے لیے یہ پورا جال بنا تھا اور وہ لڑکا جو اسے اندر لایا تھا، اسی کا مہرہ تھا۔
اسی وقت، کلب کے مرکزی ہال میں، شاہویر اپنے کچھ اہم بزنس کلائنٹس کے ساتھ ایک صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ وہاں ایک انتہائی ضروری ڈیل کے سلسلے میں آیا تھا، لیکن اس کا موڈ اب بھی صبح والے واقعے کی وجہ سے شدید خراب تھا۔ اچانک اسکا وہی قریبی دوست بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔ اس کے چہرے پر جھوٹی گھبراہٹ اور مکر صاف عیاں تھا۔ "شاہویر! غضب ہو گیا یار! میں نے ابھی تمہاری منگیتر الماس کو دیکھا ہے۔ وہ۔۔۔ وہ کسی لڑکے کے ساتھ اندر کوریڈور کے روم نمبر چار میں گئی ہے!"۔۔۔۔۔ " بکواس کر رہے ہو تم !"۔ شاہویر ایک دم صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آواز میں وہ دبدبہ اور غیظ و غضب تھا کہ آس پاس کے لوگ مڑ کر دیکھنے لگے۔
اس کی گہری بھوری آنکھیں یکدم خونخوارہو گئیں۔ "میں سچ کہہ رہا ہوں شاہویر۔ مجھے خود یقین نہیں آیا لیکن وہ الماس ہی تھی۔ تم خود جا کر دیکھ لو۔ "دوست نے جلتی پر تیل چھڑکا۔ شاہویر کی مردانہ انا، اس کا خاندانی غرور اور اس کا بے پناہ پوزیسو پن ایک دم جاگ اٹھا۔ اس کے ذہن میں الماس کا وہ جملہ گونجا " میرے دل میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔"۔ "اگر یہ سچ ہے تو میں اس لڑکی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا!"۔شاہویر دانت بھینچتے ہوئے بپھرے ہوئے شیر کی طرح کوریڈور کی طرف لپکا۔
اس کے بھاری قدموں کی تھاپ سے زمین لرز رہی تھی۔ وہ سیدھا روم نمبر چار کے سامنے پہنچا اور اس نے اپنے پورے وجود کی طاقت سے دروازے پر لات ماری۔ "دھڑام!" دروازے کا لاک ٹوٹ گیا اور وہ کھلتا چلا گیا۔ اندر نیم اندھیرے میں الماس خوف سے دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی، جبکہ وہ دوسرا لڑکا جو اسے پھنسانے کے لیے وہاں کھڑا تھا شاہویر کو دیکھ کر خوف سے کانپنے لگا اور ایک طرف کو بھاگا۔ شاہویر کی نظر جیسے ہی الماس پر پڑی، اس کے تن بدن میں لگی آگ نے پورے وجود کو جھلسا دیا۔ سامنے الماس کھڑی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کا دوپٹہ ایک سائیڈ پر گرا ہوا تھا، اور آنکھوں میں آنسو تھے۔
شاہویر کو لگا کہ اس کی غیرت کا سر عام جنازہ نکل گیا ہے۔ کلب کے باقی لڑکے اور لڑکیاں بھی شور سن کر کوریڈور میں جمع ہو چکے تھے اور تماشائی بنے دیکھ رہے تھے۔ "شاہویر لالا! خدا کی قسم میں بے قصور ہوں، آپ نے مجھے۔۔۔ "الماس روتے ہوئے اس کی طرف بڑھی، لیکن شاہویر کے چہرے پر اس وقت رحم کا ایک بھی تاثر نہیں تھا۔ اس کی ایگو نے اسے اندھا کر دیا تھا" خاموش! ایک لفظ بھی اپنے منہ سے مت نکالنا! " شاہویر بپھرے ہوئے شیر کی طرح چلایا۔ اس نے ایک زور دار جھٹکے سے الماس کا نازک ہاتھ اپنی مضبوط، فولادی گرفت میں لیا اور اسے سب کے سامنے، کوریڈور اور پورے کلب کے ہال سے گھسیٹتا ہوا باہر کی طرف لے جانے لگا۔
کلب کے لوگوں کی سر گوشیاں اور ہنسی شاہویر کے کانوں میں پگھیلے ہوئے سیسے کی طرح اتر رہی تھی۔ اس کی حاکمیت اس کا غرور سب خاک میں مل چکا تھا، اور اس سب کا ذمہ دار وہ اس معصوم لڑکی کو سمجھ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد حویلی کا مرکزی ہالا اس وقت کسی عدالت کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں مجرم کٹہرے میں کھڑا ہو۔ شاہویر نے الماس کا ہاتھ اتنے زور سے جھٹکا کہ وہ فرش پر گرتے گرتے بچی۔ اس کا دوپٹہ اب بھی کندھے سے ڈھلکا ہوا تھا اور چہرے پر اڑے رنگ اس کی بے گناہی اور خوف کا ماتم کر رہے تھے۔۔۔۔
گھر والوں کے پوچھنے پر اس نے سب اگل دیا تھا۔ "ش۔۔ش۔۔ شاہویر لالا نے مجھے خود وہاں بلایا تھا! یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں! " الماس نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر روتے ہوئے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز میں سچی معصومیت اور دہائی تھی، لیکن اگلے ہی لمحے فضا میں ایک تیکھی اور سنسناتی ہوئی آواز گونجی۔ سالحہ بیگم کا بھاری ہاتھ پوری قوت سے الماس کے معصوم گال پر پڑا تھا۔ الماس کا سر ایک طرف کو گھوما اور وہ فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔
اس کا گال پل بھر میں سرخ ہو گیا اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ " بند کرو اپنی یہ بکواس! اپنی بدچلنی کا الزام اب تم شاہویر پر لگاؤ گی؟"۔ سالحہ بیگم غصے اور شرمندگی سے ہانپ رہیں تھیں۔ جبکہ شاہویر چند قدم دور، اپنے دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ڈالے، دانت بھینچے کھڑا تھا۔ اس کی گہری بھوری آنکھوں میں اس وقت کوئی رحم نہیں تھا۔ بلکہ ایک زخمی شیر جیسی انا پرستی اور وحشت تھی۔ وہ تماشائی بنے پورے کلب کے سامنے اپنی توہین کروا کر آیا تھا اور اس کا غرور اب اس لڑکی کو معاف کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا۔" یہ لڑکی ہمارے خاندان کی روایت پر سب سے بڑا داغ ہے۔ میں آج، اسی وقت، سب بڑوں کے سامنے اس سے اپنی منگنی ختم کر رہا ہوں! میرا اس سے اب کوئی تعلق نہیں!"۔ شاہویر نے اپنی برف جیسی سرد اور کاٹ دار آواز میں فیصلہ سنایا۔
اس کا لہجہ اتنا حاکمانہ اور آخری تھا کہ دادی اماں نے بھی افسوس سے اپنے سر کوحاکمانہ اور آخری تھا کہ دادی اماں نے بھی افسوس سے اپنے سر کو جھکا لیا۔ خاندانی روایت کو توڑنا شاہویر جیسے انا پرست مرد کے لیے بہت بڑی بات تھی، لیکن اس نے یہ طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا تھا۔ " آپ بہت گھٹیا ہیں، شاہویر لالا! آپ نے خود مجھے فون کر کے۔۔" الماس فرش پر بیٹھی تڑپ کر چلائی تھی، جب لاؤنج کے دوسرے کونے سے اس کے باپ کے دھاڑنے کی آواز آئی۔ " خاموش ہو جاؤ الماس! ورنہ میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گا!"۔ صفدر علی جو خاندانی غیرت اور بدنامی کے خوف سے پاگل ہو رہے تھے آگے بڑھے ان کے چہرے پر غصے کی وجہ سے خون اتر آیا تھا۔
انہوں نے ہال کے دروازے پر کھڑے ایک ملازم کی طرف دیکھا۔ " جاؤ! اسی وقت محلے کے نکاح خواں کو بلا کر لاؤ! اس سے پہلے کہ یہ خبر باہر نکلے اور ہماری پگڑی اچھلے ، میں اس سیاہ بخت کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں!"۔ "لیکن اس کا نکاح کس سے ہو گا؟ "۔ رضیہ بیگم نے کانپتی آواز میں پوچھا۔ شاہویر نے بھی ایک ابرو اٹھا کر اپنے چچا کی طرف دیکھا۔ صفدر علی کی نظریں گھومتی ہوئی حال کے ایک کونے کی طرف گئیں، جہاں ایک ویل چیئر پر پچھیں چھبیس سال کا ایک نوجوان خاموشی سے بیٹھا سر جھکائے یہ دیکھ رہا تھا۔۔۔
یہ وہی ملازم تھا جو دو ماہ پہلے ایک شدید حادثےمیں معذور ہوا تھا اور حویلی کے پچھلے کمرے میں مقیم تھا۔ اس کی ٹانگ پر اب بھی پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ بالکل لاچار نظر آتا تھا۔ " اس کا نکاح زارون سے ہوگا! یہی سزا ہے اس لڑکی کی، جو کلبوں میں غیر مردوں کے ساتھ پکڑی جاتی ہے! بولو، تمہیں قبول ہے؟"۔ صفدر علی نے اس معذور نوکر کے سامنے جا کر غصے سے پوچھا۔ الماس نے تڑپ کر اس نوکر کی طرف دیکھا۔ اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ ایک چلبلی، یونیورسٹی جانے والی لڑکی تھی اور آج اسے ایک معذور ملازم کے پلے باندھا جا رہا تھا۔ اس نے شاہویر کی طرف دیکھا کہ شاید وہ اس ظلم کو روکے، لیکن شاہویر نے نفرت سے اپنی نظریں دوسری طرف پھیر لیں۔ اس کی خاموشی الماس کے دل پر آخری خنجر کی طرح لگی۔ نکاح خواں منٹوں میں پہنچ گیا۔ پورے ہال پر موت کا سا سکوت طاری تھا۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Enter The Name of Requested Novel...

Previous Post Next Post