Zoya enters into a forced marriage with Junaid, a cold and distant man who clearly tells her on the first night that he does not accept her as his wife and has no feelings for her. Despite being part of his household, Zoya lives like a stranger, receiving warmth only from his parents and sister, while Junaid ignores her completely. Over time, she hides her pain behind silence and focuses on her studies, trying to find peace within herself. Meanwhile, Junaid behaves entirely differently with others, especially his modern and close friend Nisha, which deeply hurts Zoya but also makes her emotionally stronger and more self-controlled.
Months later, Zoya begins to regain a sense of normalcy at university, where she interacts with her kind classmate Arslan, who treats her with respect and helps her academically. For the first time, she is seen smiling freely. However, this moment is witnessed by Junaid, who unexpectedly feels anger and jealousy seeing her happy with someone else. This stirs unknown emotions within him, marking the beginning of a shift in his attitude. The story unfolds as a journey of emotional conflict, hidden feelings, and evolving relationships, where love, ego, and realization slowly start to change the dynamics between Zoya and Junaid.
Click Here To Download The Novel
Novel Name
Tera Mera Hai Pyar Amar
Writer Name
Huma Qureshi
Sneak Peak Of The Novel
آپ یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں رات کے اس پہر کسی لڑکی کے کمرے میں آتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی۔ زویا کی پھٹی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اس کی آواز بھی پھٹی تھی وہ نہایت غصے میں دھاڑی تھی۔ تمہارے ساتھ رات گزارنے آیا ہوں جان۔ اور تم کوئی غیر لڑکی نہیں بلکہ میری بیوی ہو وہ سے گود میں اٹھاتا بیڈ پہ پھینک چکا تھا۔جنید کے یہ الفاظ سنتے زویا نے کمفرٹر اوپر تک کھینچا تھا۔۔ اس کی اس حرکت پہ جنید نے بمشکل قہقہہ ضبط کیا۔۔ کیا ہوا ڈارلنگ مجھے خوش نہیں کرو گی؟ وہ کمفرٹر اس سے چھینتے نہایت ہی مشکوک انداز میں بولا تھا زویا کا سارا بدن خوف سے لرز رہا تھا۔ جو شوہر جو اسے منہ نہیں لگاتا تھا اچانک اسے رات گزارنے کا خیال کیسے آگیا۔۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھلنے کی ہلکی مگر اچانک آواز پر زویا ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیلی ہوئی تھیں۔ اس نے جلدی سے سائیڈ لیمپ جلایا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کی سانس جیسے گلے میں اٹک گئی۔ "آپ آپ یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں؟ رات کے اس پہر کسی لڑکی کے کمرے میں آتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی؟" وہ اپنے اوپر کمبل کھینچتے ہوئے انتہائی غصے سے چلائی تھی۔ سامنے کھڑا شخص کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا شوہر جنید تھا۔ وہ ایک دراز قد چوڑے کندھوں اور پرکشش خدوخال کا مالک انسان تھا۔ اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں ہمیشہ ایک سرد مہری اور غصہ چھایا رہتا تھا مگر آج ان آنکھوں میں کچھ اور ہی چمک تھی۔ "تمہارے ساتھ رات گزارنے آیا ہوں جان۔ اور تم کوئی غیر لڑکی نہیں میری بیوی ہو۔" جنید نے آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑا اور ایک ہی جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچ کر بیڈ پر گرا دیا۔ زویا شدید خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی اور بیڈ پر پڑے کمفرٹر کو مضبوطی سے پکڑ کر اپنے گرد لپیٹ لیا۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ جنید نے بمشکل اپنا قہقہہ روکا اور آگے بڑھ کر ایک ہی جھٹکے سے وہ کمفرٹر اس کے ہاتھ سے چھین کر دور فرش پر اچھال دیا۔ "کیا ہوا ڈارلنگ؟ مجھے خوش نہیں کرو گی؟" اس نے جھک کر زویا کے چہرے کے بالکل قریب سرگوشی کی۔ اس شخص کے اس پراسرار اور مشکوک انداز پر زویا کا سارا بدن سرد پڑ گیا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ جو انسان پچھلے چھ ماہ سے اس کے سائے سے بھی دور بھاگتا تھا آج اچانک اس پر اپنا حق کیوں جتا رہا تھا۔
جنید کی قربت اور اس کی سانسوں کی تپش نے زویا کے ذہن میں چھ ماہ پہلے کی وہ سرد رات تازہ کر دی جب وہ پہلی بار اس گھر میں دلہن بن کر آئی تھی۔ اس رات زویا سرخ عروسی جوڑے میں سمٹی بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی۔ اس کا دل سینے میں اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے اپنی پسلیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ زویا ایک انتہائی خوبصورت اور معصوم سی لڑکی تھی جس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں زندگی کے کئی خواب سجے تھے۔ وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز پر نروس بھی تھی اور خوش بھی۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور جنید بھاری قدموں سے اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر روایتی دلہے والی کوئی نرمی خوشی یا مسکراہٹ نہیں تھی بلکہ اس کی پیشانی پر گہری سلوٹیں پڑی تھیں۔ اس نے دروازہ بند کیا اور زویا کی طرف ایک نظر دیکھ کر بیڈ سے کچھ فاصلے پر رک گیا۔ "اس غلط فہمی میں مت رہنا کہ میں نے تمہیں دل سے اپنی بیوی تسلیم کر لیا ہے۔" اس کی پاٹ دار اور سرد آواز نے کمرے کی خاموشی کو بے دردی سے توڑا تھا۔ زویا نے چونک کر سر اٹھایا اور اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ "یہ رشتہ محض میرے والد کی ضد کا نتیجہ ہے۔" جنید نے اپنی بات جاری رکھی اس کا لہجہ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ "میں نے صرف ان کی عزت رکھنے اور ان کی ضد کے آگے ہار مان کر تم سے نکاح کیا ہے۔ اس رشتے سے اور خاص طور پر مجھ سے کسی چیز کی امید مت رکھنا۔ میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔" یہ الفاظ کسی بھاری پتھر کی طرح زویا کے دماغ پر لگے تھے۔ اس کے سارے خواب جو اس نے ایک خوشگوار اور محبت بھری زندگی کے لیے دیکھے تھے ایک ہی پل میں چکنا چور ہو گئے۔ اس کے حلق میں ایک کڑوا سا گولہ اٹک گیا۔ اس نے بے بسی سے اپنے ہونٹ بھینچے اور آنکھوں میں امڈ آنے والے آنسوؤں کو زبردستی پیچھے دھکیلا۔ اس کی خودداری اسے اس مغرور اور ظالم شخص کے سامنے رونے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا اور کوئی صفائی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بس اپنے ہاتھوں کی مہندی کو دیکھتی رہی جو اب اسے بے رنگ لگ رہی تھی۔ اگلی صبح ناشتے کی میز پر زویا معمول کے مطابق سب گھر والوں کی خدمت میں مصروف تھی۔ اس نے اپنے چہرے پر ایک پرسکون خول چڑھا لیا تھا تاکہ کسی کو اس کے اندر کے ٹوٹنے کا اندازہ نہ ہو۔ جنید کی والدہ جو ایک انتہائی شفیق اور محبت کرنے والی خاتون تھیں نے زویا کو پیار سے اپنے پاس کرسی پر بٹھا لیا۔ "بیٹا تم کیوں اتنی صبح اٹھ کر کام کر رہی ہو؟ تم بیٹھو اور آرام سے ناشتہ کرو یہ کام ملازم کر لیں گے" انہوں نے زویا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے محبت سے کہا۔ "نہیں آنٹی میرا مطلب ہے امی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے" زویا نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ جنید کے والد جو گھر کے سربراہ اور ایک رعب دار انسان تھے اخبار پڑھنے میں مگن تھے۔ انہوں نے بھی اخبار سے نظریں ہٹا کر زویا کو دیکھا اور بولے۔ "بیٹے یہ گھر اب تمہارا ہے۔ اسے اپنا ہی سمجھو اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بتانا۔" زویا نے سر ہلا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اسی دوران جنید تیار ہو کر سیڑھیاں اترتا ہوا آیا۔ وہ بلیک سوٹ میں ملبوس انتہائی سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس نے کرسی کھینچی اور خاموشی سے بیٹھ گیا۔ اس نے کافی کا مگ اٹھایا اور پینے لگا۔ اس نے زویا کی طرف ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا جیسے وہ لڑکی وہاں موجود ہی نہ ہو جیسے وہ کوئی بے جان چیز ہو۔ ناشتہ ختم کرنے کے بعد جنید اپنی کرسی سے اٹھا۔ اس نے انتہائی سرد اور روکھے لہجے میں اپنے والدین کو خدا حافظ کہا اور سیدھا مین دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ زویا کی نگاہیں کچھ پل کے لیے اس کی چوڑی پشت پر ٹھہریں۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی کسک اٹھی کہ کیا واقعی اس کی کوئی اہمیت نہیں؟ پھر اس نے خود کو جھٹکا ایک گہرا سانس لیا اور جنید کی چھوٹی بہن سارہ کی طرف متوجہ ہو گئی۔ سارہ گو کہ رشتے میں اس کی نند تھی مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ زویا اسے اپنی چھوٹی بہن ہی سمجھتی تھی۔ دوپہر کا وقت تھا۔ لاؤنج میں زویا اور سارہ بیٹھی آپس میں ہنسی مذاق کر رہی تھیں۔ جنید بھی آج جلدی گھر آ چکا تھا اور سامنے والے صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ فائلز چیک کر رہا تھا۔ ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی اور سکون تھا جسے اچانک دروازہ کھلنے کی زوردار آواز نے توڑ دیا۔ نتاشا عرف نشی شور مچاتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ وہ ایک ماڈرن تیز طرار اور لاپرواہ سی لڑکی تھی۔ نیلی جینز اور کالی لیدر جیکٹ پہنے لڑکوں جیسے چھوٹے کٹے ہوئے بالوں کے ساتھ وہ سیدھا جنید کی طرف بڑھی۔ "جنید تم یقین نہیں کرو گے آج میں نے کیا کیا" وہ بے تکلفی سے جنید کے بالکل ساتھ والے صوفے پر دھپ سے بیٹھ گئی۔ جنید نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظریں ہٹائیں اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ "کیا ہوا نشی؟ آج پھر کسی سے پنگا لے کر آ رہی ہو؟" نشی نے ہنستے ہوئے اسے اپنی بائیک ریسنگ کا قصہ سنانا شروع کر دیا۔ "یار وہ لڑکا سمجھ رہا تھا کہ میں ہار مان لوں گی لیکن میں نے اسے چوراہے پر ایسا کٹ مارا کہ وہ بس دیکھتا ہی رہ گیا۔" وہ ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی اور جنید جو صبح گھر والوں اور زویا کے ساتھ اتنا سرد روکھا اور خاموش تھا اب کھل کر مسکرا رہا تھا۔ اس کے چہرے کی وہ سختی مکمل طور پر غائب ہو چکی تھی اور وہ نشی کی ہر بات پر قہقہہ لگا رہا تھا۔ زویا خاموشی سے صوفے پر بیٹھی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اسے نشی کی اس حد سے زیادہ بے تکلفی اور جنید کے اس بدلے ہوئے دوستانہ رویے سے دل میں ایک تیز چبھن محسوس ہوئی۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کے سینے میں سوئی چبھو دی ہو۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا جنید کے پاس مسکرانے اور بات کرنے کے لیے صرف باہر کے لوگ ہی ہیں؟ کیا اس کے حصے میں صرف اس شخص کی سرد مہری اور نظر انداز کیا جانا ہی لکھا ہے؟ باتوں کے دوران جنید نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھایا اور سامنے بیٹھی زویا کی طرف دیکھا۔ زویا کی نظریں بھی اسی پر جمی تھیں ان آنکھوں میں ایک خاموش سوال تھا ایک دکھ تھا۔ لیکن جنید کا چہرہ زویا کو دیکھتے ہی فوراً سپاٹ ہو گیا۔ مسکراہٹ اس کے لبوں سے ایسے غائب ہوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ اس نے انتہائی سرد مہری سے اپنی نظریں ہٹائیں اور دوبارہ نشی کی باتوں میں مگن ہو گیا۔ زویا نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں سختی سے الجھایا اور اپنی توجہ سارہ کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ وہ اب پوری طرح سمجھ چکی تھی کہ اس گھر میں اور خاص طور پر جنید کی زندگی میں اس کی حیثیت صرف ایک خاموش تماشائی کی ہے۔ اسے اپنے دل کو پتھر کرنا تھا کیونکہ یہ راستہ اتنا آسان نہیں ہونے والا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کبھی اس شخص کے آگے نہیں جھکے گی اور نہ ہی اسے اپنی کمزوری دکھائے گی۔ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے واقعی اپنے اس فیصلے پر عمل کر کے دکھایا۔ جنید کی بے رخی اور سرد رویے کو اس نے اپنی عادت بنا لیا تھا اور اپنی تمام تر توجہ صرف اور صرف پڑھائی پر مرکوز کر دی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس گھر کی چاردیواری میں اس کا سکون صرف اس کی کتابوں سے جڑا ہے۔
مہینوں بعد آج یونیورسٹی کا لان خاصا پررونق لگ رہا تھا۔ موسم خوشگوار تھا اور ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ زویا اپنی نند سارہ کے ساتھ گھاس پر بیٹھی کچھ نوٹس ترتیب دے رہی تھی جب ان کا کلاس فیلو ارسلان وہاں آ گیا۔ ارسلان ایک دراز قد خوش مزاج اور انتہائی سلجھا ہوا لڑکا تھا جس کے چہرے پر ہمیشہ ایک نرم سی مسکراہٹ رہتی تھی۔ وہ پوری کلاس میں اپنی مدد کرنے والی عادت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ "اسلام علیکم کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟" ارسلان نے قریب آ کر خوش دلی سے پوچھا۔ "وعلیکم اسلام جی بالکل بیٹھیں ارسلان" زویا نے کتابوں سے نظر ہٹا کر شائستگی سے جواب دیا۔ ارسلان نے اپنے بیگ سے کچھ کاغذات نکالے اور زویا کی طرف بڑھائے۔ "یہ لیں زویا آپ کے وہ نوٹس جو پچھلے ہفتے لائبریری میں گم ہو گئے تھے۔ میں نے فوٹو کاپی والے سے کہہ کر اپنے نوٹس سے دوبارہ نکلوا لیے ہیں۔" زویا کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے جلدی سے وہ کاغذات تھامے۔ "بہت شکریہ ارسلان آپ کو اندازہ نہیں کہ آپ نے میری کتنی بڑی مشکل حل کر دی ہے۔ میں تو سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ اب فائنل کی تیاری کیسے کروں گی۔" "ارے بس کریں زویا آپ تو ویسے بھی پوری کلاس کی ٹاپر ہیں۔ ایک آدھ نوٹس گم ہونے سے آپ کا کیا بگڑ جائے گا؟" ارسلان نے مسکراتے ہوئے چٹکی لی۔ سارہ جو پاس بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی ہنس پڑی۔ "بالکل ٹھیک کہا آپ نے ارسلان بھائی یہ تو گھر میں بھی کتابوں کے علاوہ کسی چیز کو نہیں دیکھتیں۔ میں تو انہیں کہتی ہوں کہ کسی دن کتابوں کے اندر ہی نہ غائب ہو جائیں۔" ان دونوں کی باتوں پر زویا بھی بے ساختہ ہنس پڑی۔ مہینوں کی اداسی خاموشی اور گھٹن کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب زویا کے لبوں پر اتنی کھلی صاف اور بے ساختہ مسکراہٹ ابھری تھی۔ وہ سب کچھ بھول کر چند لمحوں کے لیے ایک عام سی خوش باش لڑکی بن گئی تھی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ کچھ فاصلے پر کوئی اسے ہی دیکھ رہا ہے۔ اسی لمحے جنید کی گاڑی یونیورسٹی کے بڑے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تھی۔ آج وہ ڈرائیور کے بجائے خود سارہ کو لینے آیا تھا۔ اس نے گاڑی پارکنگ کی طرف موڑی تو اچانک اس کی نظر دور لان میں بیٹھی زویا پر پڑی۔ جنید کی نگاہیں وہیں جم گئیں۔ زویا کسی غیر مرد کے ساتھ بیٹھی یوں کھل کر ہنس رہی تھی جیسے اسے دنیا کا کوئی غم نہ ہو۔ وہی زویا جس کا چہرہ گھر میں ہمیشہ سپاٹ اور اترا ہوا رہتا تھا جس کی مسکراہٹ جنید نے شادی کے بعد سے آج تک نہیں دیکھی تھی وہ آج ایک اجنبی لڑکے کی باتوں پر مسکرا رہی تھی۔ جنید کے سینے میں اچانک ایک انجانی سی آگ بھڑک اٹھی۔ یہ ایک ایسا احساس تھا جس سے وہ خود بھی ناواقف تھا۔ اس کے جبڑے کی ہڈیاں تن گئیں اور اس نے اسٹیئرنگ وہیل کو اتنی سختی سے مٹھی میں جکڑا کہ اس کی انگلیوں کے جوڑ سفید پڑ گئے۔ اس کا دل چاہا کہ ابھی گاڑی سے اترے اور جا کر اس لڑکے کو وہاں سے اٹھا دے۔ اس نے غصے سے ہارن پر ہاتھ مارا۔ ایک زوردار اور لمبی آواز نے لان کے پرسکون ماحول کو توڑا۔ زویا نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا۔ اس جانی پہچانی گاڑی کو دیکھتے ہی اس کے چہرے کی مسکراہٹ ایک سیکنڈ میں غائب ہو گئی۔ اس نے دیکھا کہ جنید ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا کھڑکی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظروں کی تپش زویا کو دور سے بھی محسوس ہو رہی تھی۔ "سارہ بھائی آ گئے ہیں ہمیں چلنا چاہیے" زویا نے جلدی سے اپنی کتابیں سمیٹتے ہوئے گھبراہٹ سے کہا۔ "خدا حافظ ارسلان نوٹس کے لیے ایک بار پھر شکریہ" اس نے جلدی سے کہا اور سارہ کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے گاڑی کی طرف چل پڑی۔ وہ دونوں جیسے ہی گاڑی کے قریب پہنچیں جنید نے گاڑی کا انجن پہلے ہی اسٹارٹ رکھا ہوا تھا۔ زویا نے خاموشی سے پچھلا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی جبکہ سارہ اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
What are you doing here in my room? Don't you feel ashamed coming into a girl's room at this hour of the night? Zoya's eyes were wide open and her voice was also wide open. I have come to spend the night with you, my dear. And you are not some strange girl, but my wife. He had picked her up and thrown her on the bed. Hearing these words from Junaid, Zoya had pulled the comforter up. Junaid could barely contain his laughter at this action. What happened, darling? Won't you make me happy? He had said in a very suspicious manner as he snatched the comforter from her. Zoya's whole body was shaking with fear. How did the husband who never touched her suddenly get the idea of spending the night?
Zoya jumped up at the soft but sudden sound of the door opening. Her eyes widened in surprise and fear in the darkness. She quickly turned on the side lamp and her breath caught in her throat when she saw the person standing in front of her. "What are you doing here in my room? Aren't you ashamed to come into a girl's room at this time of night?" she shouted angrily while pulling the blanket over herself. The person standing in front of her was none other than her own husband Junaid. He was a tall, broad-shouldered man with attractive features. His deep black eyes always held a coldness and anger, but today there was something different in those eyes. "I have come to spend the night with you, dear. And you are not a non-girl, you are my wife." Junaid went forward and grabbed her by the arm and with one jerk pulled her towards him and threw her on the bed. Zoya, extremely scared, stepped back and tightly grabbed the comforter lying on the bed and wrapped it around her. Her fingers were trembling. Junaid barely held back his laughter and went forward and with one jerk snatched the comforter from her hand and threw it on the floor. "What happened, darling? Won't you make me happy?" He leaned down and whispered very close to Zoya's face. Zoya's whole body went cold at this mysterious and suspicious manner of this man. She could not understand why the man who had been running away from her shadow for the past six months was suddenly asserting his right over her today.
Junaid's closeness and the warmth of his breath brought back to Zoya's mind that cold night six months ago when she had first come to this house as a bride. That night, Zoya was sitting on the edge of the bed in a red wedding dress. Her heart was beating so hard in her chest that she felt her ribs breaking. Zoya was a very beautiful and innocent girl with many dreams of life in her big black eyes. She was both nervous and happy at the beginning of her new life. The door of the room opened and Junaid entered with heavy steps. There was no traditional bridegroom's gentle joy or smile on his face, but deep wrinkles were on his forehead. He closed the door and stopped at some distance from the bed after glancing at Zoya. "Don't be under the misconception that I have accepted you as my wife with all my heart." His hoarse and cold voice broke the silence of the room brutally. Zoya raised her head in shock and looked at him. There was confusion in her eyes. "This relationship is just the result of my father's stubbornness." Junaid continued his speech, his tone as cold as ice. "I married you only to respect him and to give in to his stubbornness. Don't expect anything from this relationship and especially from me. There is no place for you in my heart." These words fell on Zoya's mind like a heavy stone. All her dreams that she had for a happy and loving life were shattered in an instant. A bitter lump stuck in her throat. She pursed her lips helplessly and forced back the tears that were welling up in her eyes. Her self-restraint did not allow her to cry in front of this arrogant and cruel person. She bowed her head silently and did not answer any questions. She just kept looking at the henna on her hands which now seemed colorless to her. The next morning at the breakfast table, Zoya was busy serving the whole family as usual. She had put on a calm shell on her face so that no one would guess the breakdown inside her. Junaid's mother, who was a very kind and loving woman, lovingly made Zoya sit on a chair next to her. "Son, why are you working so early? You sit down and have breakfast comfortably, you will get this done," she said lovingly, patting Zoya's head. "No, aunty, I mean, I have no problem with her.
I like it," Zoya replied with a soft smile. Junaid's father, who was the head of the house and a stern man, was busy reading the newspaper. He also looked away from the newspaper, looked at Zoya and said. "Son, this house is yours now. Consider it yours and if you need anything, feel free to tell me." Zoya nodded and thanked him. Meanwhile, Junaid got ready and came down the stairs. He looked very serious in a black suit. He pulled out a chair and sat down silently. He picked up a mug of coffee and started drinking. He didn't even bother to look at Zoya, as if the girl wasn't there, as if she were an inanimate object. After finishing breakfast, Junaid got up from his chair. He said goodbye to his parents in a very cold and stern tone and headed straight towards the main door. Zoya's eyes stayed on his broad back for a moment. A strange feeling arose in his heart that
Introduction Of Novel
Tera Mera Hai Pyar Amar is a heart-touching romantic novel that revolves around eternal love and strong emotional bonds. The story explores how true love remains constant despite challenges, misunderstandings, and life’s hardships. With engaging characters and a compelling storyline, the novel beautifully presents the journey of love that stands the test of time, delivering a powerful message about faith, commitment, and the everlasting nature of true عشق.
Introduction Of Writer
Huma Qureshi is a well-known Urdu writer recognized for her emotional and romantic storytelling. She has a unique ability to portray deep feelings, relationships, and the complexities of love in a simple yet captivating manner. Her writing often highlights themes of sacrifice, loyalty, and the struggles faced by individuals in love, making her stories relatable and impactful for readers.
