Dard Gar By Umme Maryam - Complete PDF Novelians Castle

Novel NameDard Gar
WriterUmme Maryam
CategoryRevenge Based Novel

Most Attractive Sneak Peak Of Dard Gar By Umme Maryam

That person came into my life only to take revenge on my brother, he used me to take revenge on my brother. Till today no one has come close to me but I don't know what was in it. After the engagement, I kept going to see him without getting married and one day my brother saw us in the wrong way and he broke up with us but... My brother was a stranger to him. The person in front of him was not an "ordinary" person and that's what happened on the wedding day. He kidnapped me and married me and when I got pregnant with his first child, he left me back at my father's doorstep...
"You should wear a shirt, Dawood"
I was really getting disturbed. He was shocked at first and then started laughing spontaneously...
"Are you a strange girl or girls die for this body of mine. You touch me under pretexts and you?" He was shaking his head in a pitiful manner. I took a cold breath.
" I have nothing to do with such girls. "I got angry for a moment.
"But man, you are also my future wife."
"I am. I am not. You should understand this." I was irritated.
"I can understand, but the medicine I took was very high potency. My heart was racing as soon as I took off my shirt. Even now, look, my heart is beating much faster than its normal rate."
At the end of his speech, he held my hand and placed it on his chest. It was as if I had received a thousand-volt current. This movement had driven me mad with rage. I freed my hand with a jerk and quickly got up. But my attempt was unsuccessful. Abu Dawood held my hand again.
"What happened...?"
"What happened? Are you asking me? You yourself don't know anything, Dawood. I don't like this frankness, this rudeness, you understand." My temper had risen and I was about to burst. Abu Dawood looked at me with cold eyes in response and then shouted.
"What rudeness did I do, do you know the meaning of rudeness?" His tone was extremely impudent, his eyes were so angry and dirty that I suddenly became speechless with surprise and shock.
" Rudeness is called being too much. Which I have not told you yet. Rudeness has many other meanings that I can reveal to you now. "A girl like you who comes here to satisfy her own ego by betraying her family." He reached out and pulled my cloak and rolled it up and threw it into a far corner. If someone had thrown acid on me, it wouldn't have hurt so much. If someone had thrown me into a blazing fire, I probably wouldn't have protested, but these were Dawood's words.
Such an insult, such a lightness, such a lack of dignity. Perhaps this should have been the punishment for my wrong steps. I was panting badly. His entire body was blurred in my teary eyes. I felt that my legs would not be able to bear the full weight of my existence.
I had stumbled before I could fall. Abu Dawood stepped forward and caught me. Anger resistance rose within me, but all my abilities were useless. I had looked at him with eyes drowning in sorrow and had closed my eyes in anguish. He must have said something. But my mental state was not such that I could understand.
I was half-blind With her legs shaking and her body shaking, she was suddenly standing in his arms. At the same time, there was a strange noise. I saw Abu Dawood startled, then he froze.
"Leave him alone, Abu Dawood, and go back yourself."
I had to strain my mind to remember whose voice it was???
"Oh you! Good morning. Look, your seat is not in good condition. Although it was my visit." Abu Dawood's tone was mocking.
My senses began to be disturbed. I resisted his arms as if he were trying to get out of their arms.
"I suspected you, I had no idea you would be so mean." The next moment he pounced on Abu Dawood and dragged me towards him aggressively. My condition was the same as before.
Now it was like a dead man's seizure. After the accordion position that my brother had seen me in, I probably wouldn't have dared to face him even if I died.
Abu Dawood and Bhaiya were now facing each other and like stuffed bulls ready to attack each other, I cowered in a corner like a frightened bird.
"I will shoot you. You bastard! You had enmity with me. How dare you look at the honor of my house?" Bhaiya had shouted while spitting, his face turning black with rage. Then, as soon as I saw them, both of them had become a tangled web. My senses, like mine, had returned. I felt that if these two were not stopped, they would probably beat each other to death.
"Get away, Bhaiya! Leave them, please leave them." I got up and staggered towards Bhaiya and made a harmless attempt to hold them and separate them. I couldn't stop them, but it certainly fueled Bhaiya's fury.
After pushing Dawood back with one hand, he turned me around with the other hand and slapped me.
"Get away, you, taking your own form. Because of you, just because of you, today this two-bit person is humiliating us. "Aun Bhaiya was definitely not himself. His slap was so severe that I hit the wall like an inanimate object. Blood was pouring out from the back of my head and my nose as well as my lips.
Abu Dawood, who himself was a victim of Bhaiya's rage and martial arts

Urdu Sneak Peek

وہ شخص میری زندگی میں صرف بھیا سے بدلہ لینے کے لئے آیا تھا اس نے میرا استعمال کر کے بھیا سے بدلہ لینا تھا۔ آج تک کوئی شخص میرے قریب نہیں آیا مگر نجانے اس میں کیا تھا کے انگیجمنٹ کے بعد نکاح کے بغیر میں اسے دیکھنے جاتی رہی اور ایک دن ہمیں بھیا نے غلط تریقے سے دیکھ لیا انہوں نے ہم دونوں کا رشتہ توڑ دیا مگر۔۔۔۔۔۔ بھیا انجان تھے انکے سامنے جو شخص تھا وہ کوئی " عام " نہیں تھا اور یہی ہوا شادی والے دن اس نے مجھے اغواہ کر کے مجھ سے نکاح کرلیا اور جب میں اسی کی پہلی اولاد کے ساتھ پریگنںٹ ہوگئی وہ مجھے واپس باپ کی دہلیز پر چھوڑ آیا۔۔۔۔۔
" آپ شرٹ تو پہنیں نا داؤد "
میں واقعی ڈسٹرب ہو رہی تھی ۔ وہ پہلے چونکے پھر بے ساختہ ہنستے چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔
" عجیب لڑکی ہو یا لڑکیاں میری اس باڈی پر مرتی ہیں۔ بہانے بہانے مجھے چھوتی ہیں اور تم؟ وہ جیسے متا سفانہ انداز میں سر جھٹک رہے تھے۔ میں نے ٹھنڈا سانس بھرا۔
" مجھے ایسی لڑکیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ " مجھے ایک دم غصہ آگیا تھا۔
" لیکن یار تم میری ہونے والی بیوی بھی تو ہو۔"
" ہونے والی ہوں نا۔ ہوں تو نہیں۔ آپ اس بات کو تو سمجھیں ۔" مجھے جھنجھلاہٹ نے آن لیا۔
" میں سمجھ سکتا ہوں مگر جو میڈیسن میں نے لی ہیں وہ بہت ہائی پوٹنسی کی تھیں میرا دل گھبرارہا تھا جبھی شرٹ اُتاری تھی۔ابھی بھی دیکھو میر دل اپنی رفتار سے کہیں بڑھ کر تیزی سے دھڑک رہا ہے ۔"
انہوں نے اپنی بات کے اختتام پر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیا۔ مجھے جیسے ہزار ولٹیج کا کرنٹ لگا تھا۔ یہ حرکت مجھے طیش سے پاگل کر گئی تھی ۔ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر میں سرعت سے اُٹھی تھی۔ مگر میری یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی۔ ابوداؤد نے دوبارہ میرا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
" کیا ہوا ....؟"
" کیا ہوا؟ آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں؟ آپ کو خود کچھ بھی پتا نہیں ہے داؤد۔ مجھے یہ بے تکلفی یہ بدتمیزی ہرگز پسند نہیں ہے سمجھے آپ ۔" میرا پارہ چڑھ گیا تھا اور میں پھٹ پڑی تھی۔ ابو داؤد نے مجھے جوابا سرد نظروں سے دیکھا تھا پھر پھنکار کر بولے تھے۔
" کونسی بد تمیزی کی میں نے تم بد تمیزی کا مطلب جانتی ہو؟“ ان کا لہجہ بے حد گستاخ تھا ان کی نظریں اتنی قہر بھری اور غلیظ تھیں کہ میں یکلخت حیرت اور صدمے سے گنگ ہونے لگی۔
" بد تمیزی دست درازی کو کہتے ہیں۔ جو میں نے ابھی تک تم سے نہیں کی۔ بد تمیزی کے اور بھی کئی مطلب ہیں جو میں ابھی تم پر ظاہر کر سکتا ہوں۔ تم جیسی لڑکی پر جو اپنے گھر والوں کو دھوکہ دے کر اپنے نفس کی تسکین کی خاطر یہاں آتی ہے۔" انہوں نے ہاتھ بڑھا کر میری چادر کھینچی تھی اور گول مول کر کے دور کونے میں پھینک دی۔ مجھ پر کوئی تیزاب پھینک دیتا تو اتنی تکلیف نہ ہوتی ۔ مجھے کوئی بھڑکتے الاؤ میں پھینک دیتا تو شاید میں احتجاج نہ کرتی مگر یہ داؤد کے الفاظ تھے ۔
اتنی توہین ، اتنی سبکی ، ایسی بے مائیگی۔ شاید میرے غلط راہ پر پڑے ہوئے قدموں کی سزا یہی ہونی چاہیے تھی۔ میں بری طرح کا نپ رہی تھی ۔ میری چھلکتی آنکھوں میں ان کا سرا پا دھندلا گیا تھا۔ مجھے لگا تھا میری ٹانگیں میرے وجود کا پورا بوجھ نہیں سہار سکیں گی۔
میں لڑکھڑا گئی تھی اس سے پہلے کہ گر جاتی ابو داؤد نے آگے بڑھ کر مجھے تھام لیا۔ میرے اندر غضب کی مزاحمت ابھری مگر میری ساری صلاحیتیں بے کار ہو چکی تھیں ۔ میں نے غم سے ڈوبتی نگاہوں کے ساتھ انہیں دیکھا تھا اور کرب سے آنکھیں موندھ لیں تھیں۔ انہوں نے شاید کچھ کہا تھا۔ مگر میری ذہنی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں سمجھ پاتی۔
میں نیم وا آنکھوں بے جان ہوتی ٹانگوں کے ساتھ بے بسی کی شدت سمیت یکلخت میں ان کے بازؤں میں سمٹی کھڑی تھی۔ معًا کچھ نا گوار شور اُبھرا۔ میں نے ابو داؤد کو چونکتے دیکھا پھر وہ ٹھٹھک گئے تھے۔
" اسے چھوڑ دو ابو داؤد اور خود پیچھے ہٹ جاؤ۔"
مجھے ذہن پر زور ڈالنا پڑا یاد کرنے کو کہ یہ آواز کس کی تھی؟؟؟
" اوہ تم ! اچھا ہوا آگئے ۔ دیکھو تمہاری سٹر کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ حالانکہ یہ میری عیادت کو آئی تھی۔" ابوداؤد کا لہجہ تمسخرانہ تھا۔
میرے حواس سلب ہونے لگے۔ میں نے ان کی بانہوں سے نکلنے کی موہوم سی مزاحمت کی تھی۔
" مجھے شک تھا تم پر تم اتنے گھٹیا ہو گے مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا۔"اگلے لمحے وہ ابوداؤد پر جھپٹے تھے اور مجھے جارحانہ انداز میں اپنی جانب گھسیٹ لیا۔ میری پہلے تو جو حالت تھی سو تھی۔
اب مرے ہوئے پر دوروں والی بات ہوگئی تھی۔ جس آکورڈ پوزیشن میں دیکھا تھا بھائی نے مجھے اس کے بعد میں شاید مر کے بھی ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی تھی۔
ابو داؤد اور بھیا اب ایک دوسرے کے مقابل تھے اور بھرے ہوئے سانڈوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے کو تیار میں سہمی ہوئی چڑیا کی طرح ایک کونے میں دبک گئی تھی۔
" میں تمہیں شوٹ کر دوں گا۔ حرام زادے ! تمہاری دشمنی مجھ سے تھی۔ میرے گھر کی عزت کی طرف نظر اٹھانے کی جرات کیسے کی تم نے ؟" بھیا نے کف اڑاتے ہوئے للکارا تھا ان کا چہرا شدت غضب سے سیاہ پڑ رہا تھا۔ پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں گھتم گتھا ہو گئے تھے۔ میرے جیسے گم شدہ حواس بحال ہو اٹھے مجھے لگا تھا اگر ان دونوں کو روکا نہ گیا تو شاید وہ ایک دوسرے کو مار مار کرختم کردیں گے۔
" ہٹ جا ئیں بھیا! چھوڑ دیں پلیز چھوڑ دیں۔" میں اُٹھ کر لڑکھڑاتی ہوئی بھیا کی جانب گئی تھی اور انہیں پکڑ کر الگ کرنے کی ایک بے ضررسی کوشش کی۔ انہیں تو باز نہیں رکھ سکی البتہ بھیا کے طیش کو مزید ہوا ضرور دے دی۔
ایک ہاتھ سے داؤد کو پیچھے پٹخنے کے بعد انہوں نے دوسرے ہاتھ سے گھما کر مجھے طمانچہ رسید کیا تھا۔
"دفع ہو جاؤ تم اپنی شکل لے کر ۔ تمہاری وجہ سے محض تمہاری وجہ سے آج یہ دو ٹکے کا انسان ہمیں ذلیل کر رہا ہے ۔“عون بھیا یقیناً اپنے آپے میں نہیں تھے۔ ان کا یہ تھپڑ شدید تھا کہ میں کسی بے جان چیز کی طرح دیوار سے جا ٹکرائی۔ میرے سر کے پچھلے حصے اور ناک کے ساتھ ہونٹوں سے ایک ساتھ خون بہ نکلا تھا۔
ابو داؤد جو خود بھی بھیا کے طیش اور مارشل آرٹ کے فن کا نشانہ بن رہے تھے مگر مجھے اس طرح گرتے دیکھ کر لپک کر میری جانب آئے تھے۔
" حجاب! آریواد کے؟"انہوں نے جھک کر مجھے سنبھالنا چاہا مگر اس سے پہلے عون بھیا نے کسی عفریت کی طرح انہیں بالوں سے دبوچ کر مجھ سے دور کھینچ لیا تھا۔
"خبر دارا اپنے ناپاک ہاتھ میری بہن سے دور رکھنا سمجھے؟"وہ زور سے چلائے تھے اور ایک زور دار گھونسا داؤ کو ایک بار پھر اپنے چہرے پر کھانا پڑا۔ ایک لمحے کے اندر داؤد کا چہرا لہولہان ہو گیا تھا۔ یہ شور اور چیخ و پکار سن کر ملازم اور واچ مین وہاں آگئے تھے۔ اور بدحواس اپنے مالک کو پٹتا دیکھ رہے تھے ۔
معاراج مین کے حواس بحال ہوئے اور اس نے عون بھیا پر
گن تان لی۔
خو ظالم کی بچی! چھوڑ دو امارے صیب کو ورنہ ام گولی چلا کر یہیں ڈھیر کر دے گی تم کو ۔ پٹھان واچ مین کے اراء سے خطر ناک تھے مگر بھیا کو جیسے پرواہ ہی نہیں تھی۔ انہوں نے ایک زوردار ٹھو کر ابوداؤ د کور سید کی اور نفرت سے ہونٹ سکوڑ کر بولے تھے۔
" میں لعنت بھیجتا ہوں تم پر ہمیشہ کے لیے۔ میرا وہ اعتماد جو میں نے تم پر کیا وہ میری سب سے بڑی غلطی تھی۔ آج کے بعد میں تمہاری شکل نہ دیکھوں " انہوں نے آگے بڑھ کے میری ہاتھ کی انگلی سے انگیجمنٹ رنگ کھینچی اور ابودائود کے منہ پر مارتے مجھے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے باہر نکلتے چلے گئے۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification

Post a Comment

Enter The Name of Requested Novel...

Previous Post Next Post